تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 327

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ نکاح فرموده 10 اپریل 1944ء جن کو عزت دیتا ہے، یقینا ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم انہی کو عزت دیں اور ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت پانے والے کے مقابلہ میں دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔نہ قیصر اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت رکھتا ہے، نہ کسری اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت رکھتا ہے، نہ کوئی اور بادشاہ یا پریذیڈنٹ اس کے مقابل پر کوئی عزت رکھتا ہے۔بے شک دنیوی بادشاہ بھی عزتیں رکھتے ہیں مگر انہیں دنیا کی عزتیں ہی حاصل ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی کوئی عزت نہیں۔"" پس یہ ایک غلط بات ہے، جو ہماری جماعت میں پیدا ہوگئی ہے۔جس کا بدلہ نفسیاتی طور پر انہیں ضرور ملے گا۔اگر وہ سلسلہ کی خدمت کرنے والوں کی عزت نہیں کریں گے، میں یہ تو نہیں کہتا کہ آئندہ لوگ دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف نہیں کریں گے۔کیونکہ یہ سلسلہ روحانی ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگ ہمیشہ پیدا کرتا رہے گا، جو دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر یہ ضرور ہو گا کہ جو لوگ معزز سمجھے جاتے ہیں، خدا تعالیٰ ان کو ذلیل کر دے گا“۔میں واقفین سے کہتا ہوں کہ ان کو بھی غور کرنا چاہیے کہ کیوں ان کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے؟ بے شک وہ واقفین زندگی ہیں مگر میں ان میں بھی دنیا داری دیکھتا ہوں۔فرض کرو ہماری جماعت میں سے بعض دنیا دار یہ کہتے ہیں کہ ہم ایسے شخص کو اپنی لڑکی کیوں دیں جس کے پاس دنیا نہیں ؟ اور ان کی یہ بات سن کر وہ واقف زندگی یا اس کے رشتے دار برا مناتے ہیں تو سوال یہ کہ وہ واقف کیوں اوپر کی طرف نگاہ رکھتا ہے؟ جب کسی نے اپنے آپ کو دین کے لیے وقف کر دیا تو اس کے لیے یہ سوال جاتا رہا کہ اس کی شادی کسی امیرلڑکی سے ہوتی ہے یا اس کی شادی کسی غریب لڑکی سے ہوتی ہے؟ مگر جب وہ چاہتا ہے کہ جس شخص کی آمد مجھ سے زیادہ ہو، جس کی مالی حالت مجھ سے بہتر ہو، جو شخص دولت اپنے پاس رکھتا ہو اس کی لڑکی سے میں شادی کروں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ گو اس نے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے مگر پو جاوہ دنیا کی ہی کرتا ہے اور وہ بھی اسی مندر میں جا کر ماتھا ٹیکتا ہے، جس میں دوسرا دنیا دار اپنا ماتھا ٹھیک رہا ہوتا ہے بھی تو وہ ایسے گھرانوں میں اپنی شادی کا خواہشمند ہوتا ہے، جو مال دار ہوں اور جو دولت اور ثروت رکھتے ہوں۔اگر وہ دنیا کو چھوڑ چکا ہے تو کیوں وہ چھوٹی جگہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا؟ اس کے دل میں یہ احساس ہونا کہ میری شادی کسی کھاتے پیتے شخص کی لڑکی سے ہو، کسی غریب کے ہاں میری شادی نہ ہو، بتا تا ہے کہ دنیا کا بہت اس نے اپنے دل سے نکالا نہیں، صرف اس کی جگہ بدل لی ہے ، ایک کمرہ سے اس بت کو نکال کر اس نے دوسرے کمرے میں رکھ لیا ہے ورنہ سجدہ وہ بھی بت کو کرتا ہے۔مگر پرستش اس بت کی کر رہا ہے۔اگر دنیا کو وہ چھوڑ چکا 327