تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 316
خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم نیو یارک اور لنڈن میں تبلیغ کر رہا ہے۔آخر سلسلہ کو چوڑھے کی ضرورت ہوگی تو وہ کہاں سے پوری کی جائے گی؟ وہ تم میں سے کسی شخص کے ذریعہ پوری کی جائے گی یا اگر دھوبی کی ضرورت ہو تو سلسلہ اس ضرورت کو کس طرح پورا کر سکتا ہے؟ اسی طرح پورا کر سکتا ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو دھوبی کے کام پر مقرر کر دیا جائے اور یقینا اگر کوئی شخص سلسلہ کے لئے دھوبی کا کام کرتا ہے تو وہ ویساہی ہے، جیسے تبلیغ کرنے والا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ میں تشریف لے گئے اور آپ نے دیکھا کہ مسلمان عورتیں مشکیں بھر بھر کر زخمیوں کو پانی پلا رہی ہیں۔جب جنگ ختم ہوئی غنیمت کے اموال آئے تو آپ نے فرمایا: ان عورتوں کو بھی حصہ دو کیونکہ یہ بھی جنگ میں شریک ہوئی ہیں۔اب دیکھو انہوں نے جنگ میں صرف پانی پلایا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ویسا ہی حصہ دیا، جیسے میدان جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کو دیا۔تو یہ ایک خطر ناک غلطی ہے ، جو بعض لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ کہتے ہیں، ہم وہ کام کریں گے، جو ہماری مرضی کے مطابق ہوگا۔یہ تمہارا کام نہیں کہ تم فیصلہ کرو کہ تمہیں کس کام پر لگایا جائے ؟ جو شخص تمہارا امام ہے، جس کے ہاتھ میں تم نے اپنا ہاتھ دیا ہے، جس کی اطاعت کا تم نے اقرار کیا ہے، جس کا فرض ہے کہ وہ تمہیں بتائے کہ تمہیں کس کام پر مقرر کیا جاتا ہے؟ تم اس میں دخل نہیں دے سکتے۔نہ تمہارا کوئی حق ہے کہ تم اس میں دخل دو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقْتَلُ مِنْ ورَائِهِ امام ایک ڈھال کی طرح ہوتا ہے اور لوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے ہو کر دشمن سے جنگ کریں۔پس جہاں امام تمہیں کھڑا کرتا ہے، وہیں تم کھڑے ہو جاؤ۔اگر امام تمہیں سونے کا حکم دیتا ہے تو تمہارا فرض ہے، تم سو جاؤ۔اگر امام تم کو جاگنے کا حکم دیتا ہے تو تمہارا فرض ہے، تم جاگ پڑو۔اگر امام تم کو اچھا لباس پہنے کا حکم دیتا ہے تو تمہاری نیکی ، تمہارا تقویٰ اور تمہار از بد یہی ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ لباس پہنو۔اور اگر امام تم کو پھٹے پرانے کپڑے پہنے کا حکم دیتا ہے تو تمہاری نیکی تمہارا تقولی اور تمہارا دینی عیش یہی ہے کہ تم پھٹے پرانے کپڑے پہنو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ کشفی حالت میں ایک شخص کے ہاتھ میں کسری کے سونے کے کنگن دیکھے۔جب حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا اور اسلامی فوجوں کے مقابلہ میں کسری کو شکست ہوئی تو غنیمت کے اموال میں کسری کے سونے کے کنگن بھی آئے۔حضرت عمر نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا تمہیں یاد ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ تمہیں کہا تھا کہ میں تمہارے ہاتھ میں کسری کے سونے کے 316