تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 109

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء ہے۔انگریز چھوڑ، کالے چور کا مال کھانا بھی جائز نہیں۔مومن کو معاملات کا بہت کھر ا ہونا چاہئے۔ہم لوگ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں۔آپ کا عملی نمونہ ہمارے سامنے ہے۔جس سے انسان کو زیادہ محبت ہو اس کی طرف سے زیادہ نصیحت کا وہ محتاج نہیں ہوتا بلکہ اس کے نمونہ کو دیکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جماعت کے بعض دوست داڑھی منڈواتے تھے۔کسی نے حضور سے شکایت کی کہ فلاں شخص داڑھی منڈواتا ہے۔آپ نے فرمایا اگر تو ان میں اخلاص نہیں تو ہماری نصیحت کا ان پر کیا اثر ہو سکتا ہے اور اگر اخلاص ہے تو ہماری داڑھی کو دیکھ کر خود ہی رکھ لیں گے۔تو اصل بات یہی ہے کہ جس سے محبت ہو اس کا نمونہ ہی کافی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے پاس کوئی احمدی آیا کسی نے آپ کو بتایا کہ یہ بغیر ٹکٹ کے آگئے ہیں۔یہ ہمارے ملک میں ایک عام رواج ہے بغیر ٹکٹ کے سفر کرنا، ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔جیسے چیتے کا شکار کر لیا، اسی طرح بغیر ٹکٹ کے سفر کر لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جب یہ بات سنی تو جیب سے ایک روپیہ نکال کر اسے دیا اور فرمایا کسی کا مال استعمال کرنا گناہ ہے۔آپ اب واپس جائیں تو اس روپیہ سے ٹکٹ خرید لیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق ہے جس سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے۔مجھے ایک احمدی دوست کی بات بہت پیاری معلوم ہوئی۔اگر چہ انہوں نے کی تو غلطی ہی تھی اور مجھ پر بدظنی کی۔جب عزیزم ناصر احمدہ یورپ سے آخری بار واپس آنے سے پہلے ایک بار چھٹیوں میں یہاں آئے تو اتفاقاً یا شاید ارادہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی ملاقات کے خیال سے قادیان آر ہے تھے۔یہاں سے میں موٹر پر استقبال کے لئے امرتسر گیا تھا۔وہاں میں نے کسی دوست سے کہا کہ ٹکٹ نے آؤ۔چودھری صاحب نے کہا کہ میرے سیلون میں ہی بیٹھ جائیں۔میں نے کہا کہ ہمارے لئے اس میں بیٹھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ انہوں نے غالبا یہ جواب دیا کہ قانون یہ ہے کہ اگر کوئی ہمارا مہمان ہو تو اس کے لئے فرسٹ کلاس ٹکٹ خرید کر اسے سیلون میں بیٹھایا جاسکتا ہے۔خیر ہم سیلون میں بیٹھ گئے۔جب میں قادیان پہنچا اور گھر جانے لگا تو امرتسر کے ایک دوست نے کہا کہ میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں اور الگ ہو کر کہنے لگے کہ میں نے یہ دو ٹکٹ خرید لئے تھے، ایک میرے لئے اور ایک پرائیویٹ سیکر میری کے لئے۔اس خیال سے کہ شاید آپ کو ٹکٹ خریدنے کا خیال نہیں رہا۔آپ سیلون میں بیٹھ گئے تھے اور میں نے سمجھا کہ اس میں بغیر ٹکٹ کے بیٹھنا آپ کے لئے جائز نہیں اور ٹکٹ خریدنے کا آپ کو خیال 109