تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 72

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 جنوری 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم سے خوف کھاتا ہے۔ایک چھوٹا بچہ گالی دے تو انسان مسکراتا ہوا گزر جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی بڑا آدمی گالی دے تو دوسرا شخص چلتے چلتے ٹھہر جاتا ہے۔اور اس سے پوچھتا ہے کہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا کہ تم نے مجھے گالی دے دی ؟ پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اور بھی زیادہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔نہ صرف قادیان کے دوست ہی بلکہ باہر کی جماعتوں کے دوست بھی اور دعاؤں پر زور دیں۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔روحانی جماعتوں کی ترقی محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل دعاؤں سے نازل ہوتے ہیں۔پس با جماعت نمازیں ادا کرنے کی عادت ڈالو۔دعائیں مانگو اور اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت پیدا کرو تا تمہارے قلب پر اللہ تعالیٰ کا عشق ایسا غالب آجائے کہ تم مجسم دعا بن جاؤ تم نماز پڑھ رہے ہو تو دعا مانگ رہے ہو ، کام کر رہے ہو تو دعا مانگ رہے ہو، سفر کر رہے ہو تو دعا مانگ رہے ہو، سفر سے واپس آرہے ہو تو دعا مانگ رہے ہو۔غرض اس قدر دعائیں کرو کہ خدا اپنے فرشتوں سے کہے کہ میرا یہ بندہ تو مجسم سوال بن گیا ہے۔اب ہمیں شرم آتی ہے کہ اس کے سوال کو رد کر دیں۔اور وہ سوال جو خدا تعالی کی درگاہ سے بھی رد نہیں ہوتا، مجسم سوال بن جانے والے کا ہی سوال ہوتا ہے۔اس کا اپنا وجود مٹ جاتا ہے اور وہ سوال ہی سوال بن جاتا ہے۔پس دعائیں کرو اور اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرو تا خدا ان بلاؤں اور ابتلاؤں سے جو درمیانی عرصہ میں آنے ضروری ہیں، ہماری جماعت کو محفوظ رکھے اور اپنے فضل اور رحم سے ایمان اور یقین کے ہم پر وہ دروازے کھول دے، جو انبیاء کے بھیجنے کا اصل مقصود ہوتے ہیں۔مطبوعه الفضل 08 فروری 1941ء) 72