تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 805
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 05دسمبر 1947ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم ہی عزت کا موجب ہوتی ہے، تب بھی تم ذلیل وجود ہو۔کیونکہ دنیا کی اور اقوام کے مقابلہ میں تمہاری کون سی تعداد ہے؟ اور اگر تھوڑی سی تعداد کی وجہ سے تمہیں دنیا میں کوئی ذلت نہیں پہنچ سکی تو لاہور میں اگر تمہاری تھوڑی تعداد ہوگی تو تمہیں کون سی ذلت پہنچ جائے گی ؟ پس کاٹ دو، جماعت کے ناکارہ طبقہ کو۔اور اس کے متعلق ہمارے پاس رپورٹ کرو تا کہ انہیں الگ کر دیا جائے۔اخلاص اور صرف اخلاص ہی آج کام آ سکتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح آج دنیا میں مخلص ارواح کو تلاش کر رہی ہے۔اور یہی مخلص ارواح کا جتھہ ہے، جو اسلام کو پھر اس کے اصل اور باعزت مقام پر کھڑا کر سکتا ہے۔انسانوں کی تعداد کے لحاظ سے آج بھی مسلمان چالیس کروڑ ہیں اور دنیا کی کوئی قوم تعداد میں ان کے برابر نہیں۔مگر تعداد نے مسلمانوں کو مصائب اور آلام سے نہیں بچایا۔اسلام کو قربانی اور اخلاص اور روحانیت ہی بچا سکتے ہیں۔اس کے لئے جدو جہد کرو۔اپنے لئے بھی اور اپنے حکام کے لئے بھی۔خود بھی چاہو کہ خدا تم کو اخلاص اور روحانیت کے مقام پر کھڑا کرے اور اپنے امیروں، پریذیڈنٹوں اور سیکریٹریوں کے متعلق بھی چاہو کہ خدا تعالیٰ ان کو بھی اخلاص اور روحانیت کے مقام پر کھڑا کرے۔وہ ذراسی کمزوری کو بھی موت سمجھیں۔نہ یہ کہ بات نہیں اور ہنس کر آگے چل پڑیں۔یہ دن کام کے دن ہیں، یہ دن قربانی کے دن ہیں۔سارے ہی دن کام کے دن ہوتے ہیں۔مگر کوئی دن زیادہ اہم ہوتے ہیں اور کوئی دن کم اہم ہوتے ہیں۔اسی طرح سارے ہی دن دین کے لیے اپنے آپ کو فنا کرنے کے ہوتے ہیں۔مگر کوئی دن ایسے ہوتے ہیں کہ اگر انسان ذرا بھی غفلت کرے تو خدا اس کی پروا نہیں کرتا بلکہ اسے مٹادیتا ہے۔کچھ دنوں میں خدا چشم پوشی سے کام لیتا ہے۔مگر کچھ دن ایسے ہوتے ہیں، جن میں وہ چشم پوشی سے کام نہیں لیتا۔یہ وہ دن ہیں ، جب اسلام کو ان مسلمانوں کی ضرورت ہے، جو قربانی کے بکرے بننے کے لئے تیار ہوں۔آج وہی شخص اسلام کے لئے عزت کا موجب ہوسکتا ہے ، آج وہی شخص خدا تعالیٰ کے حضور عزت حاصل کر سکتا ہے، جو قربانی کا بکرا بننے کے لئے تیار ہو اور سمجھتا ہو کہ میں ہر وقت قربانی دینے کے لئے آمادہ ہوں ، صرف آواز آنے کی ضرورت ہے۔بلکہ اسے یہ رنج ہو، یہ الم ہو، یہ دکھ اور یہ درد ہو کہ کیوں مجھے اب تک قربانی کے لئے نہیں بلایا گیا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر میں صرف ایک دفعہ صحابہ سے موت کی قسم لی تھی۔جسے بیعت رضوان اور بیت موت اور بیت شجرہ بھی کہتے ہیں۔یہ وہ بیعت ہے، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر لی، جس کے بعد صلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا۔آپ عمرہ کرنے کے لئے کچھ ساتھیوں سمیت 892