تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 806
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 05دسمبر 1947ء مکہ گئے۔جب مکہ کے قریب پہنچے تو چونکہ کفار کو آپ کی آمد کا علم ہو گیا۔وہ ایک بڑا لشکر لے کر آپ کو روکنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آدمی بھیجوانا چاہا تا کہ وہ کفار کے عمائد سے گفتگو کرے اور ان سے کہے کہ ہم تو صرف عمرہ کرنے کے لئے آئے ہیں، لڑنے اور فساد کرنے کے لئے نہیں آئے۔پھر کیوں ہم سے جنگ کی جاتی ہے؟ جب آپ نے اس بارہ میں صحابہ سے مشورہ لیا تو سب نے مشورہ دیا کہ اس گفتگو کے لئے حضرت عثمان کو بھجوایا جائے۔کیونکہ ان کے رشتہ دار اس وقت برسر حکومت تھے۔آپ نے اس مشورہ کے مطابق حضرت عثمان " کو بھجوا دیا۔جب حضرت عثمان مکہ پہنچے تو چونکہ ان کے رشتہ دار بھی اور دوست بھی اور عزیز بھی سب وہیں تھے ، آپ نے باتیں کیں تو باتیں لمبی ہو گئیں اور بحث مباحثہ طول پکڑ گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس دفعہ محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو عمرہ کی اجازت نہیں دے سکتے۔ہاں آئندہ سال اگر وہ آئیں تو انہیں اجازت دے دی جائے گی۔آپ ہماری طرف سے محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہیں کہ اس دفعہ وہ واپس چلے جائیں۔پھر انہوں نے حضرت عثمان سے کہا کہ ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں، آپ بے شک عمرہ کر لیں۔حضرت عثمان نے جواب دیا کہ جب تک میرے آقا کو عمرہ کی اجازت نہیں ملے گی، میں بھی عمرہ نہیں کروں گا۔بہر حال لمبی گفتگو کی وجہ سے حضرت عثمان کو واپس آنے میں دیر ہوگئی اور کفار کے لشکر میں سے کسی شخص نے یہ مشہور کر دیا کہ عثمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ افواہ پہنچی تو آپ نے اعلان فرمایا کہ وہ مسلمان ، جو آج میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرنا چاہتے ہوں، وہ جمع ہو جائیں۔اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ صحابہ پروانوں کی طرح آپ کے گرد جمع ہو گئے۔آپ نے ایک مختصری تقریر کی اور فرمایا کہ کہا گیا ہے که عثمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔ادنیٰ سے ادنی اقوام میں بھی سفیر کی عزت کی جاتی ہے، اسے مارا نہیں جاتا۔اگر یہ خبر درست ہے تو میں تم سے قسم لینا چاہتا ہوں کہ آج ہم مکہ پر حملہ کریں گے اور یا تو سارے کے سارے مارے جائیں گے اور یا مکہ کو فتح کر کے واپس لوٹیں گے۔آپ نے فرمایا وہی شخص آج بیعت کرے، جو اپنے دل میں یہ عزم رکھتا ہو کہ یا تو وہ فتح حاصل کرے گا یا اسی میدان میں مارا جائے گا۔اس وقت صحابہ بھاگے نہیں، صحابہ ڈرے نہیں ، صحابہ کے رنگ زرد نہیں ہوئے۔ایک صحابی کہتے ہیں، خدا کی قسم ہماری تلوار میں میانوں سے باہر نکل رہی تھیں تا کہ وہ شخص جو ہم سے پہلے بیعت کرنا چاہتا ہو، اس کی گردن کاٹ دیں۔انہوں نے یہ نہیں کیا کہ وہ موت کو دیکھ کر بھاگنے لگ گئے ہوں۔بلکہ انہوں نے کہا کہ کسی اور کا کیا حق ہے کہ وہ ہم سے آگے مرنے کے لئے جائے ؟ عبد اللہ بن عمر نے جب کسی کے سامنے یہ بات بیان 893