تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 797
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 نومبر 1947ء یک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اگر تمہیں تو فیق نہیں ملتی مگر ادائیگی کے لئے تم اپنی کوششیں جاری رکھتے ہو اور اسی حالت میں ایک دن وفات پا جاتے ہو تو با وجود چندہ ادا نہ کرنے کے تمہیں وہی ثواب مل جائے گا ، جو دس ہزار روپیہ دینے والے کو ملے گا۔اگر تم دس روپیہ چندہ لکھواتے اور تمہیں اس کی ادائیگی کی توفیق نہ ملتی تب بھی تم نے چندہ ادا نہیں کرنا تھا اور اگر تم دس ہزار روپیہ لکھواتے اور تمہیں اس کی ادائیگی کی توفیق نہ ملتی تب بھی تم نے چندہ ادا نہیں کرنا تھا۔مگر چونکہ تم ارادہ رکھتے تھے کہ تم دس روپیہ یا دس ہزار روپیہ سلسلہ کو ادا کرو، اس لئے تمہارے مرجانے کی صورت میں تمہارا مخلصانہ ارادہ ہی تمہارے عمل کا قائمقام بن جائے گا اور تمہیں اسی صف میں لا کر کھڑا کر دے گا، جس صف میں چندہ دینے والے کھڑے ہوں گے۔پس تصوف کے لحاظ سے میرا مشورہ انہیں یہی ہے کہ وہ اپنے وعدوں میں کمی نہ کریں بلکہ خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ، اپنے پہلے حالات کے مطابق ہی چندہ لکھوائیں۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغربی پنجاب کے رہنے والوں میں سے بھی اگر کوئی شخص صرف دس روپے دینے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ دس ہزار روپے چندہ لکھوا دے۔یہ تو دھوکا اور فریب ہوگا۔اور ایسا شخص ثواب کی بجائے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد ہوگا۔میں جو کچھ کہتا ہوں، یہ ہے کہ وہ مشرقی پنجاب کا دوست، جسے اللہ تعالیٰ نے پہلے اس بات کی توفیق عطا فرمائی تھی کہ وہ زیادہ چندہ دے مگر اب اس کی جائیداد کھوئی گئی ہے تو چونکہ کھوئی ہوئی چیز کے ملنے کا بہت امکان ہوتا ہے، اس لئے وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کے مطابق وعدہ کر دے۔پھر اگر وہ محنت اور کوشش اور عقل سے کام لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اس وعدے کو پورا کرنے کی ضرور توفیق عطا فر مادے گا اور چونکہ اس نے اپنے وعدہ میں اضافہ بناوٹ سے نہیں کیا ہوگا بلکہ اس بنا پر وعدہ کیا ہوگا ، جس بنا پر وہ ہمیشہ سے وعدہ کرتا چلا آیا ہے، اس لئے اگر وہ اسی حالت میں مر جائے گا تو خدا تعالیٰ اس کے پرانے فعل اور پرانی کوشش کی وجہ سے اس کے چندہ نہ ادا کرنے کے با وجود بشر طیکہ اس نے اپنی طرف سے ادائیگی کے لئے پوری کوشش اور جدوجہد کی ہو، اسے اتنا ہی ثواب دے گا، جتنا ثواب اسے ادا کرنے کی وجہ سے ملنا تھا۔مغربی پنجاب کے رہنے والے لوگ یا ان علاقوں کے رہنے والے افراد، جن پر وہ تباہیاں نہیں آئیں ، جو مشرقی پنجاب میں رہنے والوں پر آئی ہیں، ان سے میں کہتا ہوں کہ وہ اپنے وعدوں کو حسب سابق پہلے سالوں سے بڑھانے کی کوشش کریں اور نئے سے نئے افراد کو تحریک جدید کا ممبر بنائیں۔اس وقت بعض کاموں کی وجہ سے سات لاکھ روپیہ کا قرض تحریک جدید پر ہے۔جو در حقیقت جماعتی قرضہ ہے۔بعض بوجھ تو ایسے ہیں، جو ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔یعنی بعض کو ششیں تحریک جدید 883