تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 798
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 نومبر 1947ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم کا مال بڑھانے کے لئے کی گئیں مگر وہ الٹ ثابت ہوئیں اور روپیہ ضائع ہو گیا۔اور بعض کوششیں اس لئے کامیاب نہیں ہوسکیں کہ ہمیں اچھے کارکن میسر نہیں آرہے۔مثلاً تحریک جدید کے لئے دس ہزا را یکڑ زمین خریدی گئی ہے اور یہ نہری زمین ہے۔اگر اس کی صحیح قیمت ڈالی جائے تو اس وقت کی قیمتوں کے لحاظ سے یہ زمین تمیں لاکھ روپے کی ہے۔بلکہ اگر ہمیں وہ قیمت مل جائے ، جو اس وقت پنجاب میں زمینوں کی ہے۔بلکہ اس سے آدھی بھی مل جائے تو ایک کروڑ کی جائیداد ہے۔مگر ہمیں سمجھدار کارکن نہیں مل رہے اور اس وجہ سے آمد بہت کم ہوتی ہے۔اتنی کم کہ جور قوم پہلے ادا کرنی ضروری ہیں ، وہی بمشکل ادا ہوتی ہیں۔اگر صحیح طور پر کام کرنے والے مل جاتے تو اس زمانہ کی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تین لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہوسکتی تھی۔بلکہ عام حالات میں بھی ایک لاکھ روپیہ کی آمد بالکل یقینی ہے۔مگر ابھی تک اس زمین کی وجہ سے ہمیں کوئی آمدن نہیں ہو رہی۔بلکہ اتنی بھی نہیں ہو رہی کہ ہم اسے آمدن کہہ سکیں۔صرف اتنارو پہیہ آتا ہے، جس سے ہم پرانے قرضے اور کچھ نئی قسطیں ادا کر سکتے ہیں۔اتنی رقم نہیں آتی کہ ہم اسے خزانہ میں جمع کر سکیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اچھے کارکنوں کی صورت میں اس آمد میں بہت کچھ اضافہ ہو سکتا ہے۔مگر مشکل یہی ہے کہ تجربہ کار اور محنتی کارکن، جو آمد بڑھائیں ، وہ ہمیں ابھی تک میسر نہیں آئے۔سندھ اور پنجاب کے حالات بھی مختلف ہیں۔سندھ میں مزارع زیادہ ہیں اور مالک کم ، اس وجہ سے مزارع محنت نہیں کرتے اور پیداوار اتنی نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہئے۔اور ان زمینوں سے اس کا 1/5 بچت بھی نہیں ہوتی جتنی پنجاب میں ہوتی۔ہے۔اس مہنگے زمانہ میں بھی وہاں اچھا مربع زمین ساڑھے تین سو، چار سو روپے میں مل جاتا۔جبکہ یہاں اچھا مربع زمین دو اڑھائی ہزار روپیہ میں ملتا ہے۔گویا یہاں کی نسبت وہاں کی آمد چھ ھ گنا کم ہے۔مگر بہر حال وہ ایک جائیداد ہے اور کسی وقت اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔لیکن اس وقت سلسلہ کا بار اٹھانے میں وہ کوئی مرد نہیں دے رہی۔اس کے علاوہ سلسلہ کا مال بڑھانے کے لئے بعض اور کوششیں بھی کی گئی ہیں مگر ابھی تک ان کوششوں میں پوری کامیابی نہیں ہوئی۔بہر حال اس وقت تبلیغ کا کام اور قرضہ اتارنے کا کام سلسلہ پر اور سلسلے کے مخلص افراد پر ہی ہے۔گزشتہ سال جو تحریک کی گئی تھی ، اس میں سے بھی ڈیڑھ لاکھ روپیہ سے زیادہ کی وصولی ابھی باقی ہے اور بوجھ اسی طرح ہے، جس طرح پہلے تھا۔گو ہندوستان سے باہر کی جماعتوں پر ہم زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنا بوجھ آپ اٹھانے کی کوشش کریں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض جماعتیں کسی صورت میں بھی اپنا بوجھ خود اٹھا نہیں سکتیں۔مگر پھر بھی وہ اس کوشش میں لگی ہوئی ضرور ہیں۔اور بعض تو ایسی قربانی کر رہی ہیں، جو ہندوستان کی جماعتوں کے لئے ایک نمونہ ہے۔884