تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 796 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 796

خطبہ جمعہ فرموده 28 نومبر 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم من اور سلوی ان کے لئے آسمان سے اترے۔حالانکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی جو سمجھ دی ہے، اس کے لحاظ سے تو ہم سمجھتے ہیں کہ من و سلوی بھی آسمان سے نہیں اترے بلکہ زمین میں سے نکالے گئے تھے۔اور آسمان پر گئے ہوئے مسیح کے متعلق بھی ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ آسمان پر نہیں گئے بلکہ زمین میں ہی مدفون ہیں۔جب اس قسم کے پہلے غلط خیالات بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذریعہ سے دور کر دیئے ہیں تو اب تم اسی قسم کے اور غلط خیالات کس طرح اپنے دلوں میں رکھ سکتے ہو؟ پس اگر وہ لوگ مجھ سے پوچھیں تو میں انہیں تو یہی کہوں گا کہ وہ اپنے وعدوں میں کمی نہ کریں بلکہ خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ، اپنے اخلاص اور قربانی کی روح کا مظاہرہ کریں۔اگر خدا تعالیٰ انہیں تو فیق دے تو وہ اپنے وعدوں کو دوران سال میں پورا کر دیں اور اگر ادا کرنے کی توفیق نہ ملے تو اس رقم کو قرض تصور کر کے اگلے سال کے چندہ میں بڑھا دیں۔پھر اگلے سال ادائیگی کی کوشش کریں اور اگر اس سال بھی ادا کرنے کی انہیں توفیق نہ ملے تو دونوں سالوں کی رقم اپنے اوپر قرض تصور کرتے ہوئے ، اس سے اگلے سال میں بڑھا دیں۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں تمام چندہ ادا کرنے کی توفیق مل جائے۔اور اگر باوجود ان کی نیک نیتی اور اخلاص اور دیانتدارانہ کوششوں کے خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں چندہ ادا کرنے کی توفیق نہیں ملتی اور وہ اسی حالت میں مرجاتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ ویسے ہی سمجھے جائیں گے، جیسے وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی میں تمام چندہ ادا کر دیا۔ایک شخص اگر دس روپے کا وعدہ کرتا ہے مگر باوجود پوری کوشش اور جدوجہد کے وہ دس روپے ادا نہیں کر سکتا تو اگر یہی کوشش کرتے کرتے وہ مر جائے گا تو گو اس نے دس روپے نہیں ادا کئے ہوں گے مگر خدا تعالیٰ کے حضور یہی لکھا جائے گا کہ اس نے دس روپے ادا کر دیئے ہیں یا ایک اور شخص دس ہزار روپیہ کا وعدہ کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کے حالات ایسے ہیں کہ اگر وہ دیانتدارانہ رنگ میں کوشش کرے گا تو یہ رقم ادا کر سکے گا۔مگر کچھ ایسی روکیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ وہ یہ رقم ادا نہیں کر سکتا تو اگر ایسی حالت میں وہ مر جاتا ہے تو چونکہ اس نے دس ہزار روپیہ کی ادائیگی کے لئے پوری کوشش کی ہوگی اور آخر وقت تک اس کی یہی تمنا ہوگی کہ میں یہ رقم جلد سے جلد ادا کر دوں۔اس لئے باوجود اس کے کہ اس نے دس ہزار میں سے ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیا ہوگا، خدا تعالیٰ کے حضور یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے دس ہزار روپیہ دے دیا ہے۔پس تم اگر اپنے وعدوں کو قائم رکھو اور ایسی حالت میں مرجاؤ تو اللہ تعالیٰ کے حضور تمہیں وہی ثواب ملے گا جو پورا چندہ ادا کرنے والوں کو ملے گا۔اور یہ کتنے بڑے فائدہ کی بات ہے؟ اگر تمہیں توفیق مل جاتی ہے تو تم چندہ ادا کر کے ثواب حاصل کر سکتے ہو اور 882