تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 795
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 28 نومبر 1947ء ہے، جو اسے تباہ کرتی ہے۔مردہ دل انسان کے ہاتھ اور پاؤں میں بھی مرد نی ہوتی ہے اور وہ اپنی قوتوں سے کام لینے کی بجائے ان کو ضائع کر دیتا ہے۔لیکن جس شخص کے اندر زندگی کی روح ہوتی ہے، اس کے ہاتھ اور پاؤں میں بھی زندگی کی علامات نظر آنے لگتی ہیں۔جو شخص خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، اس کے دماغ میں روشنی پیدا کی جاتی ہے۔اور جس کے دماغ میں روشنی پیدا کی جائے ، اسے آپ ہی آپ کامیابی کے راستے نظر آنے لگ جاتے ہیں۔در حقیقت انسان اپنی موت آپ مرتا ہے۔خدا نے انسان کے لئے زہر نہیں بنایا، تریاق پیدا کیا ہے۔ہر انسان جو مرتا ہے، اپنے لئے آپ زہر پیدا کرتا ہے۔اگر انسان اللہ تعالیٰ پر سچا تو کل کرے تو اس کی کامیابی کے کئی رستے نکل آتے ہیں۔صحابہ نے جب مکہ چھوڑا اور اپنی جائیدادوں کو ترک کیا تو بظاہر وہ اپنے تمام مکانات اور تمام مال و متاع کو اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔مگر اپنے وقت پر مرنے والے مہاجرین مکہ کی اس زندگی سے کہیں بڑھ کر تھے، جو انہیں مکہ میں حاصل تھی۔مکہ کے بڑے بڑے مالداروں میں حضرت عثمان اور حضرت ابوبکر تھے۔لیکن جس حالت میں یہ لوگ فوت ہوئے ہیں، جہاں تک مالی حالت کا سوال ہے، ان کی حالت اس سے بہت بڑھ کر تھی ، جس حالت میں وہ مکہ سے نکلے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب حضرت عثمان فوت ہونے لگے تو ان کے پاس روپیہ نہیں تھا۔مگر روپیہ کا فقدان اس لئے نہیں تھا کہ وہ کنگال تھے بلکہ اس لئے تھا جیسا کہ انہوں نے خود بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوسرے اسلامی کاموں میں اپنی موت سے پہلے اپنا تمام روپیہ خرچ کر دیا تھا۔حضرت عبدالرحمان بن عوف فوت ہوئے تو اڑھائی کروڑ درھم ان کے گھر سے نکلا۔اس زمانہ کے لحاظ سے اڑھائی کروڑ درھم کے یہ معنی ہیں کہ وہ اڑھائی ارب درھم کی جائیداد تھی۔دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ ساٹھ کروڑ روپیہ ان کے گھر میں سے نکلا۔حالانکہ آجکل جو بڑے بڑے میلینئر (Millionaire) ہیں، ان کے گھروں سے بھی ساٹھ کروڑ روپیہ نہیں نکل سکتا۔تو اللہ تعالیٰ کے لئے جو لوگ قربانیاں کرتے ہیں، ان کی قربانیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔اور اگر بفرض محال کسی کی موت اس وقت سے پہلے ہو جاتی ہے، جب خدا کی طرف سے کامیابی کے رستے کھولے جاتے ہیں تو پھر بھی کیا ہے؟ یہ دنیا نہایت محدود چیز ہے۔اصل زندگی تو وہ ہے، جو اگلے جہان سے شروع ہوتی ہے۔اگر کسی کی انگلی زندگی سدھر جائے اور دنیا میں اسے کچھ نقصان بھی پہنچ جائے تو یہ نقصان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔جہاں تک میں دیکھتا ہوں عقل سے کام لینے والے کے لئے بہت رستے کھلے ہیں۔محنت سے کام لینے والے کے لئے بہت رستے کھلے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ محنت نہیں کرتے۔بلکہ چاہتے ہیں کہ کچی پکائی روٹی انہیں مل جائے اور 881