تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 794
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 نومبر 1947ء تحریک جدید - ایک ابھی تحریک جلد دوم تحریک جدید در حقیقت نام ہے، اس جدو جہد کا جو ہر احمدی کو احمدیت اور اسلام کی اشاعت کے لئے کرنی چاہیے۔تحریک جدید نام ہے، اس جدو جہد کا جو اسلام اور احمدیت کے احیاء کے لئے ہر احمدی پر واجب ہے۔اور تحریک جدید نام ہے، اس کوشش اور سعی کا جو اسلامی شعار اور اسلامی اصول کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے ہماری جماعت کے ذمہ لگائی گئی ہے۔روپیہ کا حصہ صرف ایک ظاہری نشانی ہے کیونکہ اس زمانہ میں کچھ نہ کچھ دولت خرچ کئے بغیر کام نہیں ہو سکتا۔ورنہ در حقیقت تحریک جدید نام ہے، اس عملی کوشش کا جو ہر احمدی اپنی اصلاح اور دوسروں کی اصلاح کے لئے کرتا ہے۔ہر وہ احمدی، جس کے سامنے تحریک جدید کے مقاصد نہیں رہتے ، درحقیقت وہ اپنی موت کا ثبوت بہم پہنچاتا ہے یا اپنی زندگی کے لئے کوئی کوشش کرنا پسند نہیں کرتا۔خدائی سلسلے در حقیقت انسانوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ انسان خدائی سلسلوں کے محتاج ہوتے ہیں۔خدا کی طرف سے آنے والی روح اسی طرح دنیا میں بکھر جاتی ہے، جس طرح بارش کا پانی جب آسمان سے برستا ہے تو وہ دنیا میں بکھر جاتا ہے۔جس طرح اچھا کسان بارش کا پانی جمع کر کے اپنی فصل کے لئے نہایت مفید سامان بہم پہنچاتا ہے، اسی طرح ہوشیار مومن اللہ تعالیٰ کے فیضان کی بارش کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور نہ صرف اس دنیا میں بلکہ اگلے جہان میں بھی اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔لیکن بے وقوف اور نادان اور جاہل کسان پانی کی پرواہ نہیں کرتا ، وہ ضائع چلا جاتا ہے اور پورا سال وہ چیختا اور چلاتا اور روتا ہے، مگر اس کی آواز نہیں سنی جاتی۔کیونکہ وہ آواز خدا تعالیٰ کے قانون کے خلاف ہوتی ہے۔پس آج میں چودہویں سال کی تحریک کا اعلان کرتا ہوں۔مجھے کہا گیا ہے کہ مشرقی پنجاب کے لٹے ہوئے احمدی، جنہوں نے تحریک جدید میں حصہ لیا تھا، اب کیا کریں۔اگر وہ مجھ سے پوچھیں تو میں انہیں یہی کہوں گا کہ مومن خدا تعالیٰ پر بدظنی نہیں کیا کرتا۔اگر وہ اپنے ایمان اور اپنے حوصلہ کو ان وعدوں کے مطابق بنائیں گے، جو جماعت احمدیہ سے کیے گئے ہیں تو خدا تعالیٰ بھی ان کے ایمان اور یقین اور تو کل کو ضائع نہیں کرے گا۔ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کی حالت آئندہ خراب ہو جائے یا خراب ہی رہے اور سدھر نہ سکے۔مگر اس امر کے بھی سامان ہیں کہ اگر وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تدبیروں اور عقل اور دماغ سے کام لیں تو ان کی آئندہ حالت اس سے بہت اچھی ہو جائے ، جو مشرقی پنجاب میں تھی۔جہاں تک خدا نے مجھے عقل دی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لئے ترقی کے راستے پہلے سے بہت زیادہ کھلے ہیں۔انسان کی عقل ہی ہوتی ہے، جو اسے ترقی کی طرف لے جاتی ہے اور جہالت ہی 880