تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 789
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم "" اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1947ء پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور تبلیغ پر زور دو خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1947ء۔۔۔زندہ چیز ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے اور بے جان چیز اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے اور مردہ چیز گھٹنی شروع ہو جاتی ہے۔حیوان بڑھتا ہے، درخت بڑھتا ہے، پتھر اور لوہا اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے اور بے جان حیوان اور مردہ حیوان اور مردہ نباتات، یہ چیزیں گھنی شروع ہو جاتی ہیں۔جانور کا جسم تحلیل ہونا شروع ہو جاتا ہے اور آخر اس کی ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ایک بڑے سے بڑا پہلوان مرنے کے بعد اور تحلیل کا زمانہ آجانے کے بعد صرف ایک مشت خاک رہ جاتا ہے یا چند سیر ہڈیاں اس کی باقی رہ جاتی ہیں۔بڑے بڑے درختوں کے پتے سوکھ کر چھوٹے ہو جاتے ہیں۔اتنے چھوٹے کہ وہ پتے ، جو سارے درخت کو ڈھانچے ہوئے ہوتے ہیں، سوکھ کر ایک چھوٹے سے بکس میں آجاتے ہیں۔غرض زندگی کی علامت ہے، بڑھنا۔بے جان ہونے کی علامت ہے، اپنی جگہ پر کھڑے ہو جانا اور بے جان سے مراد وہ چیز ہے، جس میں جان پڑی ہی نہیں ہوتی۔اور مرنے والی چیز وہ ہے، جس میں پہلے جان ہوتی ہے۔غرض ہر وہ چیز جس میں پہلے جان نہیں ہوتی اور اس لحاظ سے وہ بے جان ہوتی ہے، اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔اور وہ چیز جس میں پہلے جان ہوتی ہے اور پھر نہیں رہتی، وہ گھلنی شروع ہو جاتی ہے۔یہ ایک ایسا قانون ہے، جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔مگر جس طرح لوگوں کو موت یاد نہیں رہتی ، اسی طرح انہیں یہ قانون بھی بھولا رہتا ہے۔ہر قدم پر کمزور افراد اور کمزور قو تیں ٹھہرنا چاہتی ہیں، وہ ذرا سا چل کر سانس لینا چاہتی ہیں اور خواہش رکھتی ہیں کہ انہیں آرام کرنے اور سستانے کا موقع مل جائے۔حالانکہ اس دنیا میں سانس لینے کا کوئی موقعہ ہی نہیں۔جوٹھہرے گا، وہ گرے گا۔جو شخص زندگی کی حرکات کو روکے گا ، وہ مرے گا۔اور جو مرے گا ، وہ سڑے گا۔پس ہماری جماعت کو یہ نکتہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ انفرادی اعمال ہوں یا قومی اعمال ، ان میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہاں تک کہ ہر انسان کا عمل اس کے پہلے عمل سے بہتر ہو۔اگر کسی شخص کی نماز میں کمزوری پائی جاتی ہے تو اسے دوسرے دن اپنی نماز کو بہتر بنانا چاہیے اور تیسرے دن 875