تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 786
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود 300 مئی 1947ء کے پھیلنے کے آثار نمایاں نظر آرہے ہیں۔کہتے ہیں ”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پاتے۔ہماری جماعت بھی تبھی ترقی کر سکتی ہے، جب اس میں مافوق العادت کام کرنے کی روح پیدا ہو جائے۔ہم جماعت کے باہر نکلنے کے لئے مختلف ذرائع پیدا کر رہے ہیں۔اور ہندوستان میں اور ہندوستان سے باہر بعض جگہ زمینوں کا انتظام کر رہے ہیں۔وہاں زمیندار پیشہ لوگوں کو بسایا جائے گا۔بعض زمینیں ہم نے قیمتا خریدی ہیں اور بعض ہمیں مفت ملی ہیں۔لیکن یہ کام تبھی چل سکتے ہیں، جب جماعت کے زمیندار ہمارے ساتھ پورے طور پر تعاون کریں اور اپنی زندگیاں وقف کر کے سلسلہ کی مضبوطی کا موجب بنیں۔جو شخص اپنی زندگی پیش کر دیتا ہے، وہ محنت کے ساتھ کام کرتا ہے اور وہ خود بھی کامیاب ہوتا اور جماعت کی کامیابی میں بھی ممد ہوتا ہے۔وہ پڑھے تھے، اس لئے وہ مبلغین بن گئے۔یہ ان پڑھ ہیں تو زمیندارہ کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھے گا کہ کون پڑھا ہوا تھا اور کون ان پڑھ تھا ؟ بلکہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ میری خاطر جان کس نے پیش کی؟ اور جان پیش کرنے کے لحاظ سے پڑھا ہوا اور ان پڑھ دونوں برابر ہیں اور ثواب میں برابر کے شریک ہیں۔جو کچھ پڑھے ہوئے کے پاس تھا، اس نے پیش کر دیا اور جو کچھ ان پڑھ کے پاس تھا، اس نے پیش کر دیا۔اس لحاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دونوں برابر ہیں۔پس یہ زمینداروں کی حسرت کے پورا ہونے کا موقعہ ہے۔ان کو چاہیے کہ وہ قربانی کر کے پڑھے ہوئے لوگوں کے برابر ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں“۔مطبوعہ الفضل 04 جون 1947ء ) 871