تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 782 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 782

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 مئی 1947ء جب تک ما فوق العادت کام کرنے کی روح پیدا نہ ہو، ہم ترقی نہیں کر سکتے خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 1947ء اس کے بعد میں جماعت کو ایک نہایت اہم امر کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہے۔یہ کوئی سوسائٹی نہیں کہ جو اپنے لئے کچھ اصول طے کر کے کام کو چلا رہی ہو اور انہی اصولوں کے اندر اپنے کاموں کو محصور رکھتی ہو۔بلکہ ہر نیک کام کرنا ہماری جماعت کا فرض ہے اور ہر بدی کو دور کرنا ہمارا فرض ہے اور اسلام کی تبلیغ کو اکناف عالم تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔ان اغراض کو پورا کرنے کے لئے ہی میں نے تحریک جدید جاری کی ، جس کے ماتحت مختلف سکیمیں کام کر رہی ہیں۔ان سکیموں کو چلانے کے لئے جماعت کے لوگوں سے میں نے وقف زندگی کا مطالبہ کیا تھا۔میرے مطالبہ پر جن لوگوں نے زندگیاں وقف کی ہیں، ان میں سے بعض کو مبلغ بنایا گیا ہے ، بعض کو مدرس بنایا گیا ہے اور بعض کو دوسرے کاموں پر لگایا گیا ہے۔ایک واقف زندگی کلرک بھی ہو سکتا ہے، ایک واقف زندگی کا چپڑاسی بھی ہو سکتا ہے، ایک واقف زندگی خزانچی بھی ہو سکتا ہے، ایک واقف زندگی صناع بھی ہو سکتا ہے اور ایک واقف زندگی تاجر بھی ہو سکتا ہے۔چنانچہ مختلف لوگوں کو مختلف کاموں پر لگا دیا گیا ہے اور لگایا جا رہا ہے۔بعض نوجوانوں کو مبلغ بنا کر ہندوستان سے باہر بھیجا گیا ہے اور کچھ ہندوستان میں ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔تا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے بھائیوں کی جگہ جا کر کام کریں۔اور کچھ ایسے ہیں، جو دفاتر میں بطور انچارج کام کر رہے ہیں اور کچھ اکا ؤ ٹینسی کا کام کر رہے ہیں۔اور کچھ زمیندارہ کاموں کی نگرانی پر لگے ہوئے ہیں اور کچھ سلسلہ کے کارخانوں میں نگران کے طور پر کام کر رہے ہیں۔لیکن ایک حصہ ایسا تھا ، جو کہ وقف زندگی کے مطالبہ میں شامل نہ ہو سکتا تھا۔اور وہ زمینداروں کا طبقہ تھا۔کئی دفعہ زمینداروں نے مجھے کہا کہ کیا ہمارے لئے بھی کوئی صورت وقف زندگی کی ہے؟ ہم لوگ ان پڑھ ہیں، زندگی وقف کرنے کی صورت میں ہم سلسلہ کا کوئی کام سرانجام دے سکیں گے یا نہیں ؟ میں انہیں جواب دیتا تھا کہ میرے ذہن میں ابھی تک کوئی صورت ایسی نہیں آئی۔اور میں برابر غور کرتا چلا آرہا تھا۔چنانچہ اب تبدیل شدہ حالات کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے زمینداروں کے لئے بھی موقع پیدا کر دیا ہے۔اور آج میں جماعت کے زمینداروں کو بلاتا ہوں کہ وہ سلسلہ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں اور 867