تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 779
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مئی 1947ء پیش کی ہیں کہ انہیں دیکھ کر رشک آتا ہے۔قربانی میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس نے کیا دیا ہے۔بلکہ دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ اس نے اپنی طاقت کے لحاظ سے قربانی میں کس قدر حصہ لیا ہے؟ بعض ایسے لوگ جن پر صرف دس روپے چندہ عائد ہوتا ہے، انہوں نے چالیس روپے چندہ دیا ہے اور بعض کے وعدے تو اتنے زیادہ تھے کہ مجھے ان کے وعدوں کو رد کرنا پڑا۔اور میں نے ان سے کہا کہ جو مطالبہ ساری جماعت سے کیا گیا ہے، اسی مطالبہ کے مطابق آپ لوگ بھی قربانی کریں، اس سے زیادہ نہیں۔ورنہ بعض نے تو اپنی ساری ساری جائیدادیں پیش کر دی تھیں اور کہا تھا کہ جب ہم نے ساری جائیداد ینے کا وعدہ کیا ہوا ہے تو ہم ساری جائیداد کیوں نہ پیش کر دیں؟ یہ ایک خوشکن بات ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے، میں نے ایسے وعدے قبول نہیں کئے۔بلکہ ان کے اخلاص اور قابل رشک انتشار کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے ، انہیں یہی لکھوایا ہے کہ اس وقت جائیداد کا ایک فی صدی مانگا گیا ہے، آپ لوگ بھی اتنا ہی پیش کریں۔اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی سب کام ہیں اور اس وقت تک اللہ تعالیٰ ہی ہمارے سب کا م کرتا چلا آیا ہے اور ہمیں آئندہ بھی اس کے فضل و کرم کی امید ہے۔پس ہمیں ان دنوں خصوصیت کے ساتھ دعائیں کرنی چاہیں کہ جو فرض اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کیا ہے، اس کی بجا آوری کی ہمیں توفیق ملے۔اور اگر کوئی شخص اپنے فرض کو ادا کر چکا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اس کے دوسرے بھائیوں کو بھی اللہ تعالیٰ اس امتحان میں فیل ہونے سے بچائے۔اور اگر کسی کے اندر کچھ کمزوری پائی جاتی ہے تو وہ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی کمزوری کو دور کرنے اور اسے بھی سابقین میں شامل ہونے کی توفیق بخشے۔اللہ تعالیٰ کی قدرتیں نہایت وسیع ہیں اور اس کے فضل عظیم الشان ہیں۔اس وقت ایک نہایت ہی نازک دور ہندوستان پر آیا ہوا ہے، جس کا علاج صرف خدا تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔بظاہر انسان کام کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن در حقیقت خدا کی تقدیر ان کے پیچھے کام کر رہی ہے۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر دعا ئیں کرنی چاہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر کو ایسے رنگ میں جاری کرے کہ وہ اسلام اور احمدیت کے لئے مفید ہو اور آئندہ دنیا میں امن قائم کرنے کا موجب ہو اور یہ کہ ہمارے ملک کے اندر جو فتنہ اور فساد پایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دور کرے۔اور ہر قوم کو سمجھ عطا کرے کہ وہ آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صلح اور امن اور آشتی کے طریق کو قبول کرے اور نہ صرف ہمارا ملک صلح اور آشتی کے طریقوں کو اختیار کرے۔بلکہ خدا کے فضل سے ہمارا ملک ساری دنیا میں ایک اہم اور نیک تغیر پیدا کرنے کا موجب بن جائے۔اللهم آمین۔(مطبوعہ الفضل 15 مئی 1947 ء ) 863