تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 770 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 770

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود و02 مئی 1947 ء عظمت کے قائل ہی نہیں۔اور وہ سلسلہ کے کام کرنے میں عزت محسوس نہیں کرتے۔ان کو یہ علم ہی نہیں کہ سلسلہ کی خدمت ہی سب سے بڑی عزت ہے۔بلکہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ سلسلہ کا کام ایسا معمولی ہے کہ یہ کام دوسروں کو کرنا چاہئے ، ان کی شان کے مطابق نہیں۔گویاوہ سلسلہ کے کام کرنے میں ہتک محسوس کرتے ہیں۔چونکہ ان کے دلوں میں ایک حد تک ایمان ہے، اس لئے وہ اپنے نفس کے سامنے کچھ نہ کچھ بہانے بنا کر پیش کرتے ہیں۔کیونکہ انسان کے لئے سب سے بڑی علامت اس کے اپنے ضمیر کی طرف سے ہوتی ہے۔جب انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے لعنت ملامت کرتا ہے۔اور جب تک ضمیر مرنہ جائے ، اس وقت تک انسان ایک عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔کیونکہ ہر برے فعل کے وقت اسے ضمیر لعنت ملامت کرتی ہے کہ تو نے ایک برے فعل کا ارتکاب کیا۔اور ہر وقت کا یہ احساس انسان کو بے چین کئے رکھتا ہے اور اس کی طبیعت میں دکھ اور غم پیدا ہو جاتا ہے۔اور وہ ہر اس آرام اور لذت سے محروم ہو جاتا ہے، جس کے لئے اس نے بدی کا ارتکاب کیا ہوتا ہے۔اس دکھ اور عذاب کو دور کرنے کے لئے اور ضمیر کی تسلی کے لئے انسان نے یہ علاج سوچا ہے کہ وہ جھوٹے عذر بنا کر نفس کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں نہیں آتے تھے اور اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ مجھ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رعب اتنا زیادہ غالب ہے اور آپ کا ادب میرے دل میں اس قدر پایا جاتا ہے کہ میں آپ کے سامنے بیٹھ نہیں سکتا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ایک دفعہ مجلس میں اس بات کے خلاف تقریر کی اور آپ نے فرمایا۔یہ نفس کا دھوکہ ہے۔چونکہ ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ میری مجلس میں نہ آنا ، ایک گناہ ہے، اس لئے اس گناہ کے دکھ سے بچنے کے لئے ان کے نفس نے یہ بہانہ بنالیا اور مجلس میں نہ آنے کا باعث انہوں نے ادب اور اعزاز اور رعب قرار دیا ہے۔حالانکہ یہ نفس کی سستی اور غفلت کی علامت ہے۔کیا دوسروں کے دلوں میں ادب اور اعزاز نہیں ؟ غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوری ایک مجلس اسی بات کے متعلق خرچ کی اور آپ نے مجلس میں نہ آنے کو نفس کا بہانہ قرار دیا۔اسی طرح اس قسم کے لوگ یہ کہہ کر اپنے نفسوں کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے خدمت دین کے کاموں میں حصہ نہ لیا تو کیا ہوا، ہم چندے سے سلسلہ کی زیادہ مدد کر رہے ہیں۔مگر یہ بھی ان کے نفسوں کا دھو کہ ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لاچکے ہیں اور بیعت کر چکے ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے لئے دین کا کام کرنا ضروری ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔ان کے اپنے نفس کو اس دکھ اور تکلیف سے 853