تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 764 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 764

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 فروری 1947ء اگر کوئی شخص سننے سے معذور ہو جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص بہرہ ہو گیا ہے۔اور اگر کوئی شخص بول نہ سکے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص گونگا ہو گیا۔اور اگر کسی میں لمس کی طاقت نہ رہے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص مفلوج ہو گیا۔اور تمام لوگ ان حالتوں کو برا سمجھتے ہیں اور کوئی شخص بھی ان کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔جس طرح لوگ ہر وقت کے دیکھنے ، سننے اور بولنے کو اچھا سمجھتے ہیں، اسی طرح اگر ہماری جماعت میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ تبلیغ اچھی چیز ہے تو اس کے دلوں سے یہ خیال نکل جائے کہ ہر وقت تبلیغ ہو نہیں سکتی۔اور جس طرح وہ ہر وقت سننے، دیکھنے اور بولنے کو ضروری بجھتی ہے ، اسی طرح وہ تبلیغ کو بھی ضروری سمجھنے لگ جائے۔اور وہ بھی بھی یہ خیال دل میں نہ لائے کہ ہر وقت تبلیغ نہیں ہو سکتی۔اگر کسی کے کان بہرے ہو جائیں تو وہ فوراً ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے اور ان سے علاج کراتا ہے۔اگر کسی کی قوت بینائی میں کمی آجائے تو اسے فکر لاحق ہو جاتا ہے اور وہ فوراً حکیموں کے پاس جاتا ہے اور ان سے علاج کراتا ہے۔اگر کوئی بول نہ سکے تو اسے فکر لاحق ہو جاتا ہے اور وہ فورا اطباء کے پاس جاتا ہے اور ان سے علاج کراتا ہے۔اسی طرح اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ تبلیغ سے میری روحانی زندگی کی تر و تازگی قائم رہے گی۔اور اگر میں تبلیغ نہ کروں گا تو بیمار ہو جاؤں گا تو پھر وہ تبلیغ کرنے میں کبھی بھی سستی نہ کرے گا۔جب کٹی ایسے کام ہیں، جو لوگ ہر وقت کرتے ہیں۔ہر وقت ہی نہیں بلکہ اگر ان میں سے کوئی فعل بند ہو جائے تو شکوہ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور گھبراہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔ان کاموں سے بعض ایسے ہیں، جن کی ہمیں ہر وقت ضرورت ہے، جیسے سنایا دیکھنا۔اور بعض ایسے جن کی ہمیں دن میں چار پانچ دفعہ ضرورت ہے، جیسے کھانا۔اور بعض ایسے ہیں، جو کہ چوبیس گھنٹے میں صرف ایک دفعہ ہم کرتے ہیں، جیسے سونا۔ہم ہر روز سوتے ہیں لیکن کبھی اسے نا پسند نہیں کرتے کہ ہم ہر روز کیوں سوتے ہیں؟ بلکہ اگر کسی کو ایک دن نیند نہ آئے تو اس کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اور اس کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔اگر جسم کو روزانہ ان چیزوں کی ضرورت ہے تو روح کو روزانہ تبلیغ کی کیوں ضرورت نہیں؟ اگر جماعت میں تبلیغ کا احساس پیدا ہو جائے تو جس طرح کسی کے کان بہرے ہو جا ئیں تو وہ گھبرا جاتا ہے یا کسی کی آنکھوں میں بینائی کم ہو جائے تو وہ گھبرا جاتا ہے، اسی طرح ہماری جماعت کے لوگ تبلیغ کے مواقع پیدا نہ ہونے کی صورت میں گھبرا جائیں کہ ہماری روح گونگی ہوتی جارہی ہے ، ہماری روح اندھی ہوتی جارہی ہے، ہمیں اس کا علاج کرنا چاہیے۔پس اپنے اندر تبلیغ کا احساس پیدا کرو اور پھر استقلال اور ہمت کے ساتھ تبلیغ کرتے جاؤ اور دیکھو کہ تمہاری تبلیغ کے کیسے شاندار نتائج نکلتے ہیں؟ اور اللہ تعالیٰ تمہاری حقیر کوششوں میں کیسی برکت دیتا ہے؟ کسی کام کو متواتر کرتے جانا ہی اس کی کامیابی کا راز ہوتا ہے۔اچھا بڑھتی وہی ہوتا ہے، جس نے دس 847