تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 765
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 فروری 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم پندرہ سال کام کیا ہوا ہوتا ہے۔وہ رندے اور ہتھوڑے کو خوب چلاتا ہے اور ایک ناواقف آدمی بہت سوچ سوچ کر کام کرتا ہے کہ کہیں میں اپنا ہاتھ پاؤں ہی زخمی نہ کرلوں؟ جب کسی شخص کو کسی کام میں دسترس حاصل ہو جاتی ہے تو سرعت کے ساتھ کام کرتا ہے اور اس کا کام بھی عمدہ ہوتا ہے۔اسی طرح جو لوگ متواتر اور باقاعدہ طور پر تبلیغ کرتے ہیں، ان کے اندر تبلیغ کرنے کا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کئی مبلغوں سے بڑھ جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ تعالی سینکڑوں لوگوں کو ہدایت دے دیتا ہے۔ہماری جماعت کے ایک دوست تبلیغ کا بہت شوق رکھتے تھے۔وہ اب فوت ہو چکے ہیں اور ان کا ذکر اخبارات سلسلہ میں کم آیا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے مخلص صحابیوں میں سے تھے۔ان میں تبلیغ کا بے انتہا جوش تھا۔ان کا نام مولوی عبد اللہ تھا اور وہ کھیوہ باجوہ کے رہنے والے تھے۔عام لوگ ایک بیعت کا وعدہ کرتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں لیکن مولوی صاحب کو تبلیغ کا اس قدر شوق تھا کہ چالیس، پچاس، ساٹھ آدمی سالانہ احمدی بنانے کا وعدہ کرتے تھے اور پھر اپنے وعدے سے بھی آگے نکل جاتے تھے۔ان کو تبلیغ کرنے کی ایک دھن تھی اور ان کے ذریعہ کئی اضلاع میں جماعتیں قائم ہوئیں۔اب بھی کئی دوست ایسے ہیں، جو کہ تبلیغ کرنے کا بہت شوق رکھتے ہیں اور جتنی تبلیغ وہ کر سکتے ہیں ، وہ کرتے ہیں۔لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ جماعت کی اکثریت میں یہ جنون کام کرتا ہوا نظر آئے۔حقیقت یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی چیز کو اگر یقینی اور قطعی حساب کے ذریعہ معلوم کیا جائے تو وہ کہیں کی کہیں جا نکلتی ہے اور اسے ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے، جس شخص نے شطرنج ایجاد کی۔جب وہ اسے مکمل کر چکا تو وہ اسے لے کر بادشاہ کے پاس گیا اور کہا بادشاہ سلامت ! میں نے ایک ایسی کھیل ایجاد کی ہے، جو کہ خالی کھیل ہی نہیں بلکہ اس کے ذریعہ جنگ کے فنون اور سیاست کے علوم سیکھے جاسکتے ہیں۔بادشاہ کو وہ کھیل پسند آ گئی۔بادشاہ نے کہا اچھا مانگو تمہیں اس کے بدلہ میں کیا انعام دیا جائے ؟ جو تم مانگو گے، میں تمہیں دوں گا۔کھیل کے موجد نے کہا مجھے اور کچھ نہیں چاہئے ،صرف میری شطرنج کے خانوں کو کوڑیوں سے بھر دیا جائے۔اور ایسے طور پر بھرا جائے کہ پہلے خانے سے اگلے خانے میں دگنی کوڑیاں ہوں۔مثلاً پہلے میں ایک، دوسرے میں دو، تیسرے میں چار، چوتھے میں آٹھ۔بادشاہ نے کہا تم یہ کیا مانگ رہے ہو؟ ہم سے کوئی بڑا انعام مانگو۔موجد نے کہا مجھے یہی انعام چاہئے ، آپ مجھے یہی دے دیں۔اس پر بادشاہ چڑ گیا اور اس نے غصہ کے ساتھ خزانچی کو کہا کہ اچھا اس کی شرط کے مطابق شطرنج کے خانوں کو کوڑیوں سے بھر دو۔تھوڑی دیر کے بعد خزانچی بادشاہ کی خدمت 848