تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 763
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 فروری 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم جماعت متواتر اپنے فرض کو سمجھے اور جماعت کے لئے اس فرض کے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو غیر معمولی ترقی حاصل ہونی شروع ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں سبق دینے کے لئے کچھ کام ہمارے ساتھ لگا دیئے ہیں۔ان میں سے کچھ کام ایسے ہیں، جو ہم روزانہ کرتے ہیں اور کچھ کام ایسے ہیں، جو ہر وقت کرتے رہتے ہیں۔کچھ کام ایسے ہیں، جو سارا دن نہیں بلکہ وقتا فوقتاً کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کاموں کو ہمارے ساتھ لگا کر ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ اہم اور ضروری کاموں کو ہمیشہ جاری رکھنا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔جب تم اپنے طبعی تقاضوں کو بغیر بوجھ کے روزانہ اور بلا ناغہ ادا کرتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ اس سے اہم فرائض، جو کہ تمہاری روحانی زندگی کا موجب ہیں، تم ان کو سرانجام دینے میں سنتی اور غفلت سے کام لیتے ہو؟ ہم میں سے ہر شخص روزانہ سو جاتا ہے کہ با وجود اس کے کہ اسے روزانہ سونا پڑتا ہے۔وہ گھبرا تا نہیں کہ یہ کیا مصیبت مجھ پر آگئی۔اسی طرح ہم میں سے ہر شخص اپنے ملکی رواج کے مطابق ہر روز کھانا کھاتا ہے۔مثلاً پور بی لوگ عام طور پر دن میں ایک دفعہ کھاتے ہیں اور پنجاب کے لوگ دن میں دو دفعہ کھاتے ہیں اور شہروں والے شہروں کے دستور کے مطابق تین چار دفعہ کھاتے ہیں اور یورپ کے لوگ اپنے رواج کے مطابق دن میں پانچ دفعہ کھاتے ہیں۔لیکن کسی شخص کو ذرا بھی گھبراہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ ہمیں دن میں چار پانچ دفعہ کھانا پڑتا ہے اور ہمیں کم کھانا چاہیے۔بلکہ جن کو کھانے کے لئے تھوڑا ملتا ہے، وہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہمیں زیادہ کیوں نہیں ملتا ؟ جب انسان کئی کام روزانہ کرتا چلا جاتا ہے تو وہ ایک دوسرے اہم کام کے متعلق یہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ہم سے یہ روزانہ نہیں ہوسکتا ؟ وہ نمازوں کے متعلق کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں روزانہ نماز نہیں پڑھ سکتا ؟ جب وہ یہ کہتا ہے تو وہ اپنے قول کی آپ تردید کر رہا ہوتا ہے۔وہ روزانہ سوتا ہے، وہ روزانہ کھاتا ہے، جب وہ یہ کام روزانہ کر سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ روزانہ نماز نہیں ادا کر سکتا؟ پھر بعض کام ایسے ہیں، جن کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں۔وہ کام ہر وقت ہی ہم کرتے رہتے ہیں۔جیسے دیکھنا سننا، بولنا وغیرہ۔انسان ہر وقت بنتا ہے، ہر وقت دیکھتا ہے، دو دومنٹ ، چار چار منٹ اور دس دس منٹ کے بعد باتیں کرتا ہے۔لیکن کوئی شخص یہ شکایت نہیں کرتا کہ یہ کیا عذاب آگیا ہے کہ ہم ہر وقت ہی سن رہے ہیں؟ کوئی شخص یہ شکایت نہیں کرتا کہ بڑی آفت آگئی کہ ہم ہر وقت ہی دیکھ رہے ہیں۔کوئی یہ شکایت نہیں کرتا کہ بڑی آفت آگئی ہے، تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہمیں بولنا پڑتا ہے۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان چیزوں کو عیب نہیں سمجھتا بلکہ خوبی سمجھتا ہے۔اور اگر کوئی شخص ہر وقت نہ دیکھ سکے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اندھا ہو گیا ہے۔اور 846