تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 761
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خلاصه از خطاب فرمودہ 13 فروری 1947ء آپ کی تبلیغ بظاہر نا کام نظر آتی ہے لیکن حقیقت وہ نا کام نہیں تھی۔کیونکہ اندرونی طور پر قلوب حق کو ماننے کے لئے تیار ہورہے تھے۔چنانچہ جب مدنیہ ہجرت کرنے کی اجازت ہوئی تو مکہ معظمہ میں محلوں کے محلے ایسے تھے، جو مد نیہ چلے گئے۔وہاں جا کر اسلام قبول کر لیا۔گو یادولوں میں مخفی طور پر ایمان پیدا ہو چکا تھا۔لیکن ڈر کی وجہ سے وہ اسے ظاہر نہ کرتے تھے۔جب انہیں علم ہوا کہ مدنیہ والوں نے ، جو خود ان کے عزیز اور رشتہ دار تھے ، اسلام قبول کر لیا ہے اور انہوں نے مکہ کے مسلمانوں کو مدنیہ آ کر رہنے کی دعوت دی ہے تو اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے ، ان کا ڈر جاتا رہا اور وہ اسلام لے آئے۔قانون قدرت میں بھی ہمیں اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔مونگا ایک کیڑا ہوتا ہے، جو خدا کی القاء کے ماتحت سالہا سال تک سمندر میں ایک دوسرے کے اوپر گر گر کر جان دیتا چلا جاتا ہے۔حتی کہ آخر کار امتداد زمانہ سے ان کی نعشوں کے ڈھیر سے ہی سمندر میں جزیرے نمودار ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس قسم کے مونگے کے سینکڑوں جزائر موجود ہیں۔جب مونگے ایک دوسرے پر گر کر جان دے رہے ہوتے ہیں۔اس وقت ان کی یہ قربانی بے حقیقت اور بے نتیجہ نظر آتی ہے۔لیکن آخر ان کی قربانی سے ہی ایک نئی دنیا آباد ہو جاتی ہے۔غرض قانون قدرت سے بھی ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ابتدا میں ایک لمبے عرصہ تک قربانیاں بظاہر بے نتیجہ نظر آیا کرتی ہیں لیکن دراصل وہ بے نتیجہ نہیں ہوتیں۔بلکہ وہی قربانیاں دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرنے کا موجب ہوتی ہیں۔ہمارے نو جوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کریں۔جو نو جوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں، انہیں میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وقت ضائع نہ کیا کریں اور کم سے کم وقت میں اپنی تعلیم کو مکمل کر کے اپنے آپ کو دین کی خدمت کرنے کے قابل بنائیں۔یا درکھو دین کی خدمت کا جتنا ثواب ابتدائی ایام میں ہوتا ہے، اتنا بعد میں نہیں ہوتا۔کیونکہ جب ترقیات اور فتوحات شروع ہو جائیں، اس وقت تو ساری دنیا کو نظر آتا ہے کہ یہ جیت رہے ہیں۔اس وقت دین کے لئے قربانی کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔لیکن ابتدائی زمانہ میں جب دنیا کو فتح کے کچھ بھی آثار نظر نہیں آتے بلکہ وہ مومنوں کی قربانیوں کو بے کار اور بے نتیجہ مجھتی ہے، اس وقت اگر مومن اپنے خدا کی بات پر یقین کرتا ہے اور ترقیات کے متعلق اس کے وعدوں پر ایمان لا کر اپنی قربانی پیش کر دیتا ہے تو یہ قربانی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے بہت بڑے اجر کا مستحق بنا دیتی ہے۔مطبوعه الفضل 15 فروری 1947ء ) 843