تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 760
خلاصه از خطاب فرمودہ 13 فروری 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم لحاظ سے بھی کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔اور اگر وقف نمبر 1 کے ماتحت تمہیں دین کی خدمت کا موقعہ ملاتو پھر بھی تمہیں اور تمہارے بال بچوں کو گزارہ کے لئے تو پیسے ملتے ہی رہیں گے۔اور تم ایسی یکسوئی کے ساتھ اور اطمینان قلب کے ساتھ دین کی خدمت کر سکو گے، جو دنیوی ملازمتوں میں حاصل نہیں ہوسکتی۔فوج میں سے آنے والے نوجوانوں میں سے ایک کافی تعداد نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں اور یہ لوگ تجربے سے نسبتاً بہتر ثابت ہورہے ہیں۔فوجی زندگی گزار نے مختلف ممالک میں پھرنے اور ہر قسم کے لوگوں سے ملنے جلنے کی وجہ سے ان میں مشکلات کو برداشت کرنے ، قربانی کرنے اور محنت کرنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ان میں ایک قسم کی دلیری اور بے باکی ہوتی ہے اور وہ ہر میدان میں کام کر سکتے ہیں۔گویا حکومت نے اپنے خرچ پر ہمارے کام کے لئے انہیں ٹریننگ دے دی ہے۔گو بہت سے ایسے نوجوانوں نے وقف کیا ہے۔لیکن جنگ سے آنے والے نوجوان میرے نزدیک اب بھی ہزاروں ایسے ہوں گے، جنہوں نے اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھا اور وقف نہیں کیا۔اس لئے میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ جو لوگ فوج سے آئے ہیں اور قدرے تعلیم یافتہ ہیں۔مثلاً کلیریکل لائن میں کام کرتے رہے ہیں، وہ آگے آئیں اور دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔نہمیں مولوی فاضل اور گریجوایٹ نوجوانوں کی بھی بہت ضرورت ہے۔ایسے نو جوانوں کو بھی میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔گو بہت سے مولوی فاضلوں نے اپنا نام پیش کر دیا ہے لیکن پھر بھی کئی بچے کھچے ایسے ہوتے ہیں، جو پہلے نہیں لیتے ، دوسری یا تیسری بار تحریک کرنے پر اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق دے دیتا ہے۔اصل بات تو یہ ہے کہ اب ہماری ضرورت صرف بچے کھچے لوگوں سے ہی پوری نہیں ہوسکتی۔ہم نے دنیا بھر پر حملہ کرنا ہے، اس کے لئے سینکڑوں سے نہیں بلکہ ہزاروں سے ہی کام چل سکتا ہے۔در حقیقت اسی وقت ہمیں کامیابی ہوگی جبکہ ہم اپنے آدمیوں کو اسی طرح قربانی کی آگ میں دھکیلیں گے، جس طرح بھٹی میں بھڑ بھونجا پتوں کا ایندھن جھونکتا ہے۔ہم نے دنیا کی ذہنیت کو ، دنیا کے خیالات کو ، دنیا کے رسم ورواج کو بدلنا ہے۔اس لئے ہمیں ایک لمبی جد و جہد اور مسلسل اور پیہم قربانیاں کرنی پڑیں گی۔ابتدائی دور کی قربانیاں بے نتیجہ نہیں ہوتیں۔ابتدا میں ایک لمبا عرصہ تک قربانیاں بظاہر بے نتیجہ نظر آیا کرتی ہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بے نتیجہ نہیں ہوتیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بارہ سال تک مکہ میں برابر تبلیغ کرتے رہے۔لیکن بظاہر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔چنانچہ ہجرت کے وقت تک بعض روایات کے مطابق صرف 83 اور بعض روایات کے مطابق دو تین سو آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا۔گویا حصہ 842