تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 759
تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔جلد دوم خلاصه از خطاب فرمودہ 13 فروری 1947ء ہم نے دنیا کی ذہنیت ، خیالات اور رسم و رواج کو بدلنا ہے خطاب فرمودہ 13 فروری 1947ء جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے اب کثرت سے ہمارے آدمی تبلیغ کے لئے بیرونی ممالک میں جا رہے ہیں۔اس کی وجہ سے نئے آدمی جن سے ہم کام لے سکیں ، بہت کم رہ گئے ہیں۔ویسے تو چار پانچ سو کے قریب نام واقفین زندگی کی فہرست میں موجود ہیں لیکن سب کے سب ایسے نہیں ہوتے ، جنہیں ہم استعمال کر سکیں۔مثلاً بعض ایسے کمزور اور بڑھاپے کی عمر کے ہیں کہ انہیں باہر بھیجنا عقل کے خلاف ہے۔بعض پہلے ہی ایسے اہم کاموں پر لگے ہوئے ہیں، جہاں وہ سلسلہ کے لئے مفید وجود ثابت ہورہے ہیں۔ایسے لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹانا بھی عقل کے خلاف ہے۔پھر بعض ایسے واقف ہیں، جن کے متعلق ہمیں خطرہ ہوتا ہے کہ شاید وہ قربانی کے میدان میں پورے نہ اتر سکیں اور ٹھو کر کھا جائیں۔گوممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ ایسے نہ ہوں۔لیکن ہم تو عالم الغیب نہیں ہیں۔ہم نے تو ظاہری حالات سے ہی اندازہ لگانا ہوتا ہے۔جو غلط بھی ہو سکتا ہے اور درست بھی۔پھر بعض کی تعلیم ہماری ضرورت کے مطابق نہیں ہوتی۔گو کبھی کبھار ایسے کام بھی نکل آتے ہیں، جن میں کوئی خاص تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن بالعموم تبلیغ کے کام کے لئے ہمیں پڑھے لکھوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔پھر بعض واقفین ابھی تعلیم کے ابتدائی مراحل میں ہوتے ہیں، وہ کئی سالوں کے بعد کام آسکیں گے۔ان تمام امور کی وجہ سے چار، پانچ سو کی فہرست میں سے در حقیقت سو ڈیڑھ سو آدمی سے ہی ہم کام لے سکتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل تو ہماری ضرورت کے مطابق آدمی موجود تھے، اس لئے ہم نے وقف کی تحریک پر زور دینا چھوڑ دیا تھا۔لیکن گذشتہ سال اتنی کثرت سے ہمارے آدمی باہر گئے ہیں کہ اب نئے واقفین ، جن سے ہم کام لے سکیں ، بہت کم رہ گئے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پھر ہمیں وقف کی تحریک جماعت میں زور کے ساتھ کرنی پڑے گی۔ہمارے جو دوست جنگ میں کام کر کے اب فارغ ہو کر واپس آرہے ہیں۔میں نے ان کو آگے بھی تحریک کی تھی کہ وہ وقف نمبر 1 یا وقف نمبر 2 میں اپنے نام لکھا ئیں۔اب پھر میں تحریک کرتا ہوں کہ تم نے انگریزوں کی خاطر جو غیر مذہب اور غیر قوم سے تعلق رکھتے ہیں، اتنا عرصہ قربانی کی۔کیا اب اسلام کی خاطر اور دین کی عظمت قائم کرنے کی خاطر قربانی نہ کرو گے؟ وقف نمبر 2 ( تجارت) میں تو تمہیں دنیوی | 841