تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 758 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 758

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 فروری 1947ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد دوم میں اللہ تعالیٰ غرباء کے لئے اپنے اموال خرچ کرنے والوں کے متعلق فرماتا ہے کہ جو لوگ غرباء کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا روپیہ خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اموال کو بڑھاتا اور انہیں سو سو گنا بدلہ دیتا ہے۔اگر عام انسانوں کی روٹی کے خرچ کے لئے ، عام انسانوں کے کپڑوں کے خرچ کے لئے ، عام انسانوں کی بیماری کے علاج کے لئے ، عام انسانوں کی رہائش کے انتظام کے لئے ، عام انسانوں کی تعلیم کے انتظام کے لئے ، عام انسانوں کی تمدنی بہبودی کے لئے روپیہ خرچ کرنے والا خدا تعالی سے سو گنا انعام پاتا ہے تو ایک مومن کو سمجھنا چاہیے کہ جو شخص خدا کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی اشاعت اور اسلام کی امداد کے لئے اپنا روپیہ خرچ کرتا ہے، وہ یقینا خدا تعالیٰ سے سو گنے سے کہیں زیادہ بدلہ پائے گا۔جس طرح کسی کھیت میں ڈالا ہوا پیج ضائع نہیں جاتا اور زمیندار اس پر کسی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کرتا، اسی طرح ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کر کے کسی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کرنا چاہئیے۔جب مادی دنیا میں ایک زمیندار اپنے کھیت میں بیج ڈال کر گھبراتا نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے، ایک مومن کا ایمان تو بہر حال ایک عام زمیندار سے زیادہ ہونا چاہیے۔کیا تم نے کبھی دیکھا کہ زمیندار کھیت میں بیج ڈال کر آئے تو وہ رونے لگ جائے کہ میرا پیج ضائع چلا گیا؟ زمیندار پرکھیتی کاٹنے کا زمانہ تو بعد میں آتا ہے، جس دن وہ اپنے کھیت میں بیج ڈال کر آتا ہے، اسی دن اس کا دل خوشی سے بھر جاتا اور اس کا قلب امیدوں سے لبریز ہو جاتا ہے۔اور وہ سمجھتا ہے کہ میں نے آج ایک ایسی بنیا درکھ دی ہے، جس سے میرا اور میرے خاندان کا سال بھر کا خرچ چلتا چلا جائے گا۔اگر ایک ایسا زمیندار، جو بعض دفعہ خدا کو بھی نہیں جانتا ، مذہب کو بھی نہیں جانتا، اخلاق کو بھی نہیں جانتا، دنیوی قانون پر ایسا یقین رکھتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے، میرا پیج ضائع نہیں جائے گا تو وہ مومن، کیسا مومن ہے، جو خیال کرتا ہے کہ خدا کے حکم اور اس کے ارشاد اور ہدایت کے ماتحت جو بیج میں اپنی کھیتی میں ڈالوں گا، وہ ضائع چلا جائے گا اور وہ وہ در دنیا اور ستر در آخرت بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر مجھے واپس نہیں ملے گا ؟ پس میں اختصارا آج پھر جماعت کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خدمت دین کے اس موقع کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں۔بلکہ جلد سے جلد اعلائے کلمہ اسلام کے لئے اپنے وعدے پیش کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جائیں تا وہ اور ان کی اولادیں اس کھیت کو کاٹتی چلی جائیں ، جو آج ان کے ہاتھوں سے بویا جائے گا“۔مطبوع الفضل 11 فروری 1947ء) 840