تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 752
خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جنوری 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک بھی حاصل ہوئیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ مقدر کیا ہے کہ ہماری ترقی صحابہؓ کان سے ہو۔اس لحاظ سے ہمارے لئے قربانیوں کا عرصہ بھی لمبا کر دیا گیا ہے۔تا کہ ہماری قربانیاں صحابہ کی قربانیوں کے مشابہ ہو جائیں اور ہمارا انعام اور جزا ان کے انعام اور جزا کے مشابہ ہو جائے۔جو کام رسول رحم کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو میں سال یا یوں کہو کہ بتیس سال ( کیونکہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی بارہ سال تک مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔میں کرنا پڑا ، ہمارے متعلق اللہ تعالیٰ یہ بہتر جانتا ہے کہ ہماری جماعت اس کو کتنے وقت میں کر سکے گی ؟ مگر یہ تو ظاہر ہے کہ اس وقت تک سلسلہ کے اعلان کو اٹھاون سال ہو گئے ہیں۔اٹھاون سال کے عرصہ میں ابھی ہمارے کام کا خاتمہ پر پہنچنا تو درکنار، ابھی تو وہ ابتدائی مراحل میں نظر آتا ہے۔اور ابھی تک سلسلہ کی ترقی ایسی نہیں کہ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکیں کہ بقیہ حصہ کام کا پانچ سات یا دس سال میں ہو جائے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہت زیادہ عرصہ ہمیں اپنی قربانیوں کو جاری رکھنا ہوگا۔اس معاملہ میں اسلام کی مثال بنی اسرائیل کی سی ہے اور ہم ان کے نقش بنفش چل رہے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو بہت تھوڑے عرصہ میں فتح وکامرانی حاصل ہوگئی۔لیکن حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے زمانہ میں عیسائیوں کو ایک لمبے عرصہ تک قربانیاں کرنی پڑیں اور قریباً تین سوسال کی قربانیوں کے بعد انہوں نے کامیابی و کامرانی کا منہ دیکھا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جلد کامیابی ہوگئی اور ہماری کامیابی میں دیر لگے گی۔ہاں چونکہ مسیح ناصری ( علیہ السلام) سے مسیح محمدی ( علیہ السلام ) افضل ہے، اس لئے اتنا لمبا عرصہ تو نہیں ہوسکتا، جتنا کہ عیسائیوں کے لئے مقدر تھا، اس سے تو بہر حال کم ہی ہو گا۔یہ استدلال اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کا زمانہ حضرت موسٹی سے کم تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو ساٹھ اور ستر سال کے درمیان قربانیاں کرنی پڑیں اور رسول کریم صلے اللہ علیہ والہ وسلم کی قوم کو بتیس سال قربانیاں کرنی پڑیں۔گویا نصف سے بھی کچھ کم عرصہ بنتا ہے۔اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قوم کی قربانیوں کا زمانہ چونکہ دوسواسی سال کا تھا، اس لحاظ سے ہمارے لئے ایک سو بیس سال کا زمانہ ہوتا ہے۔جس میں سے ستاون سال گزر چکے ہیں اور تریسٹھ سال باقی ہیں۔اور اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ زمانہ یوں بھی سرعت کا ہے اور اس میں دنیوی کام بہت سرعت کے ساتھ ہورہے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ ہمیں ایک سو بیس سال سے بھی کچھ پہلے فتح و کامرانی حاصل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس 834