تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 753 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 753

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 31 جنوری 1947ء عرصہ پہلے ہمیں غلبہ اور ترقی حاصل ہوگی؟ ہوسکتا ہے کہ یہ کام ستر اسی یا نوے سال میں ہی ہو جائے اور اسی عرصہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے احمدیت کو دنیا میں قائم کر دے۔بہر حال قربانیوں کے اتنے کم سال بھی نہیں ہو سکتے ، جتنے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں تھے۔صحابہ نے کل بتیس سال قربانیاں کیں اور بتیس سال میں اسلام کو وہ شان و شوکت حاصل ہوگئی تھی کہ دنیا کی تمام حکومتیں اس کے خلاف آواز اٹھانے سے ڈرتی تھیں۔لیکن ہمارے اعلان کو اٹھاون سال گزر چکے ہیں اور ابھی ہمیں صحابہ کے مقابلہ میں کچھ بھی کامیابی نہیں ہوئی۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مختلف ممالک میں احمدیت کا بیج بو دیا ہے۔کچھ یہاں بویا ہے ، کچھ وہاں بویا ہے اور بیج کا چھینٹا دنیا کے تمام ممالک میں دے دیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس پیج کو دنیا بھر میں اگانا چاہتا ہے اور اسے بڑھانا چاہتا ہے اور دنیا کی ضروریات کو اس سے پورا کرنا چاہتا ہے۔باقی یہ کہ یہ کام کتنے عرصہ میں ہوگا ، اس کا پورا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے؟ مگر اس کامیابی اور کامرانی کے آثار نظر آرہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ آخری لڑائی کب ہوگی؟ لیکن ہم اپنی اس لڑائی کے متعلق جو کہ دلائل اور بینات کی لڑائی ہے، یہ بات یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اس کا انجام ہمارے حق میں ہوگا۔ہمیں یہ بھی یادرکھنا چاہئے ہم جتنا جتنا کامیابی کے قریب ہوتے جارہے ہیں، اتنا ہی قربانیوں کا زیادہ بوجھل جوال اپنی گردن میں ڈالتے جارہے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اب ہم نہایت ہی اہم دور میں داخل ہو رہے ہیں اور آئندہ ایک دوسال میں جماعت کو پہلے کی نسبت بہت زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اس لئے مومنوں کا فرض ہے کہ وہ پورے طور پر تیاری کریں اور زیادہ سے زیادہ قربانی پیش کر کے اپنے اخلاص اور نیکی کا نمونہ قائم کریں۔جولوگ اس موقعہ پر سستی اور غفلت سے کام لیں گے ، وہ گر جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دروازے سے دھتکار دیئے جائیں گے۔یہ بہت خوف کا مقام ہے۔ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ تیز تیز قدم اٹھائے اور اپنے دوسرے ساتھیوں سے منزل پر پہلے پہنچنے کی کوشش کرے۔دو سال ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک الہام کے ذریعہ بتایا تھا کہ جزا کا دن تو قریب آچکا ہے لیکن جماعت ابھی منزل سے دور ہے۔وہ الہام یہ تھا۔روز جزا قریب ہے اور راہ بعید ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں بتایا ہے کہ ہم تو انعام دینے کو تیار ہیں لیکن جماعت کو چاہئے کہ وہ انعام حاصل کرنے کے مقام پر پہنچ جائے تا کہ جب ہمارے انعام کا وقت آئے تو وہ پہلے سے اس مقام پر 835