تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 746 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 746

جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 جنوری 1947ء گذشتہ سال یعنی تحریک جدید کے بارھویں سال گذشتہ سالوں کی نسبت جماعت نے بہت کو اچھا کام کیا ہے۔اور اس سال 30 نومبر تک 92 فی صدی وعدوں کی وصولی ہو گئی۔یہ خوش کن بات ہے۔اور یہ چیز اس بات کا ثبوت ہے کہ وعدہ کرنے والوں نے اخلاص سے وعدے کئے۔اسی لئے ان کو ان کے پورا کرنے کی توفیق ملی۔میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی دوست پوری توجہ کے ساتھ تحریک جدید کے کاموں میں حصہ لیں گے۔دور اول والوں کے 19 سالہ دور میں سے بارہ سال گذر چکے ہیں۔بارہ سال قربانی کرنے کے بعد سستی کرنا، ایک افسوسناک امر ہے۔گویا 2 6 فی صدی زمانہ گزر چکا ہے، زیادہ رستہ طے ہو چکا ہے اور تھوڑ ا رستہ باقی ہے اور اب منزل قریب نظر آرہی ہے۔اب سست ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔پس میں جماعت قادیان اور بیرونی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ وقت پر اپنی پوری کوشش کے ساتھ جتنی جلدی ہو سکے ، اپنے وعدے بھجوا دیں تا کہ اگلے سال کا بجٹ تیار کیا جا سکے۔گونئے سال کا بجٹ مئی سے شروع ہوتا ہے لیکن بجٹ مارچ اپریل میں بن جاتا ہے۔اس لئے دس ضروری آخری تاریخ رکھی جاتی ہے۔اس وقت تک دفتر والوں کو ایک اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمیں کتنی آمد کی امید ہے؟ اور پہلے کی نسبت وعدوں میں کمی ہے یا زیادتی ہے۔جو خرچ ہم کر چکے ہیں، وہ تو رو کے نہیں جاسکتے اور نہ ہی ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک جگہ پر ٹھہر نا پسند کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ساتھ مبلغ جاچکے ہیں اور ارادہ ہے کہ یہ تعداد سو تک پہنچ جائے۔لیکن پھر بھی اگلی زیادتی میں بجٹ کے اندازہ کو اور چندوں کی رفتار کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔اس بجٹ کے مطابق سکیم تیار کی جاتی ہے اور جب تک بجٹ تیار نہ ہو کسی سکیم کو چلا یا نہیں جاسکتا۔دوسرا سوال دفتر دوم کا ہے۔گذشتہ سال دفتر دوم میں پچانوے ہزار کے وعدے تھے۔اس سے ظاہر ہے کہ دفتر دوم ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ وہ دفتر اول کا بوجھ اٹھا سکے۔اس سال تحریک جدید کا بجٹ چار لاکھ سے کم نہیں ہو گا اور ابھی چھ سال دور اول کے باقی ہیں۔نہ معلوم ان میں کتنی زیادتی ہوگی ؟ اور پچانوے ہزار تو چار لاکھ کا چوتھا حصہ بھی نہیں۔اس لحاظ سے دفتر دوم کی آمد بہت کم ہے اور یہ رفتار تسلی بخش نہیں۔جب تک اگلی نسل قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش نہیں کرتی اور پہلوں سے قدم آگے نہیں رکھتی ، اس وقت تک ہم اپنے آپ کو کامیاب نہیں سمجھ سکتے۔تحریک جدید میں صرف حصہ لے لینے سے انسان کو عزت حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی تحریک جدید کے نام میں کوئی عزت ہے بلکہ اس نام کے پیچھے جو روح کام کر رہی ہے، وہ قابل عزت ہے۔یعنی انسان اللہ تعالی کے دین کی خاطر جان، مال، جائیداد اور عزت ہر قسم کی 827