تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 743 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 743

خلاصہ تقریر فرمود 14 جنوری 1947ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم واقفین کو چاہئے کہ وہ اپنے دوستوں کو کھینچ کھینچ کر اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں تا سلسلہ کے کاموں میں وہ بھی ان کے شریک کار ہو جائیں۔ایک شرابی ، ایک بھنگی اور ایک بدمعاش کو اس کا رفیق مل جاتا ہے اور وہ برے کاموں کے لئے اپنا ساتھی تلاش کر لیتا ہے۔لیکن کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک واقف زندگی کو نیک کام کے لئے کوئی ساتھی مل جائے ؟ پس اگر وہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو ہر وقت تحریک کرتے رہیں تو انہیں بہت سے ساتھی مل جائیں گے۔یاد رکھو ساری دنیا کو چیلنج دے کر تم خود خواب خرگوش میں محو نہیں ہو سکتے۔جب تم ساری دنیا کو سر کرنے کا عزم لے کر اٹھے ہو تو سستی اور کوتا ہی تمہیں زیب نہیں دیتی تمہیں ہمت اور محنت سے کام کرنا چاہئے۔تم میں سے ہر شخص کو بیدار ہو جانا چاہئے۔کیا طالب علم ، کیا صناع، کیا تاجر ہر ایک کو اپنی زندگی کو سلسلہ کے لئے وقف کر دینا چاہئے۔کیونکہ سلسلہ کو ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔پس واقفین کو چاہئے کہ وہ دوسروں میں تحریک کرتے رہیں کہ وہ بھی اس کامیابی اور انعام میں شامل ہوں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا ہے۔یادرکھو کامیابی کا سہرا تمہارے ہی سر پر ہوگا اور دنیا سے تم ہی خراج تحسین حاصل کرو گے۔بے شک مال و دولت دوسرے لے جائیں گے۔مگر وہ حقیر چیز ہے، ہاتھوں کی میل ہے۔صحیح دولت ، وہ عزت اور سرخروئی ہے، جو دین کی خدمت میں حاصل ہوتی ہے۔نیز اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تمہارے ہی حصہ آئے گئی۔بعد میں بے شک بڑے بڑے آدمی پیدا ہوں گے، جرنیل بھی اور بادشاہ بھی۔مگر دنیا کے نزدیک جو قدر و منزلت تمہاری ہوگی ، وہ ان کی نہ ہوگی۔دنیا تمہارے ناموں کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ کے القاب لگائے گی اور تمہاری کوششوں کو سرا ہے گی۔مگر ان کو کوئی پوچھے گا بھی نہیں۔کیونکہ حقیقی قربانی تمہاری ہی ہو گئی اور بنیادی کام تم ہی نے کیا ہوگا۔مطبوع الفضل 16 جنوری 1947ء) 824