تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 742 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 742

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خلاصہ تقریر فرموده 14 جنوری 1947ء وسیع سلسلہ چلا ہے کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا۔عجیب قدرت ہے، چھوٹی سی حوا تھی اور چھوٹا سا اس کا شکم مگر ساری دنیا کے اربوں ارب انسان اسی ایک شکم سے نکلتے ہی چلے آئے ہیں۔پھر جو شکل آدم یا حوا کی تھی ، وہی شکل موجودہ انسانوں کی ہے۔کوئی بھی تو فرق پیدا نہیں ہوا۔دوکان ، دو ہاتھ ، دو پاؤں وغیرہ۔الغرض دنیا آج ہزاروں ہزار سال کے بعد اور سائنسدانوں کے مطابق کروڑوں کروڑ سال کے بعد بھی جسمانی طور پر اس کی نقل کرتی چلی آتی ہے۔مگر کتنے افسوس کی بات ہوگی کہ مومن روحانی طور پر خدا کے فرستادوں اور رسولوں کی نقل چھوڑ دے اور ان جیسا اپنے آپ کو بنانے کی کوشش نہ کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کواللہ تعالیٰ نے آدم کہا ہے۔یہ اسی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح دنیا نے جسمانی طور پر اس آدم کی نقل کی ہے، تم بھی روحانی طور پر اس کی نقل کرنے کی کوشش کرو۔ہماری جماعت پر دو ہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم روحانی طور پر بھی اپنے زمانہ کے آدم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نقل کرتے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تین سو سال تک آپ کے ماننے والوں کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ دوسری اقوام کی ان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہ ہوگی بلکہ وہ چوہڑوں اور چماروں کی طرح ہو جائیں گے۔پس اگر ہم اس وعدہ اور انعام میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم بھی کچھ کر کے دکھا ئیں۔اس کو پورا تو خدا نے ہی کرنا ہے اور سارا کام بھی اسی نے کرنا ہے، ہماری تو صرف شرکت ہی کی ضرورت ہے اور صرف ارادہ کرنے کی۔مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت یہ بھی نہیں کرتی۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں سلسلہ کے کاموں کے لئے آدمی نہیں ملتے۔ہمارے طالب علموں کو چاہیے کہ اس بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لئے جلد از جلد تعلیم حاصل کریں اور اپنے اندر بیداری اور احساس کا مادہ پیدا کریں۔محنت اور ہمت کی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ایک طرف تو وہ زیادہ سے زیادہ دنیوی تعلیم حاصل کریں اور دوسری طرف ساتھ ہی دینی تعلیم قرآن وحدیث وغیرہ کا ترجمہ بھی سیکھتے رہیں۔اس وقت جو لوگ سلسلہ کے کام کو چلا رہے ہیں ، انہوں نے ایسا ہی کیا تھا۔دنیا کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین کی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔اگر تم بھی ایسا کرو گے تو ہمیں فکر نہیں۔ہم سمجھ لیں گے کہ دو چار سالوں میں سلسلہ کا بوجھ اٹھانے کے لئے بہت سے نو جوان ہمیں میسر آجائیں گے۔نوجوانوں کو ہمیشہ یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہ بہت بڑے بڑے کاموں کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔انہوں نے دفتروں میں بیٹھ کر کلر کی نہیں کرنی بلکہ ایسے کارنامے سرانجام دینے ہیں، جن سے دنیا ہل جائے۔ایسے ہی بلند عزم لے کر اگر ہمارے نو جوان اٹھیں گے تو وہ کچھ حاصل کر لیں گے۔لیکن اگر حو صلے ہی پست ہوں گے تو بلند و بالا نتا ئج کی کس طرح امید ہو سکتی ہے؟ 823