تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 741 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 741

خلاصه تقر بر فرمود 14 جنوری 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم وہ خوبیاں مثلاً آواز کا اچھا ہونا یا حسن صورت وغیرہ جن سے انسان دوسروں سے ممتاز ہوتا اور ان سے خراج تحسین پاتا ہے، سب اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں۔اس کا ان میں کوئی بھی دخل نہیں ہوتا۔اس کا اگر دخل ہوتا ہے تو وہ صرف ارادہ کا۔اور یہ اتنا چھوٹا سا دخل ہے کہ وہ کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔لیکن اگر انسان اس چھوٹے سے دخل میں بھی کوتاہی کرے تو بہت ہی افسوس کی بات ہے۔انسان جب اس چھوٹے سے دخل کو بروئے کار لا کر کوئی کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اس کام پر بھی بہت خوش ہوتا اور کہنے لگتا ہے دیکھو! میرے بندے نے میری خاطر یہ کام کیا ، وہ کام کیا۔اور وہ اس معمولی سے کام کے بدلہ میں انعام دینے لگ جاتا ہے۔ایسا انعام جو کبھی ختم ہی نہ ہو۔عَطَاء غَيْرَ مَجْدُودٍ پھر یہی نہیں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے اے میرے بندے! تو نے جو مانگنا ہے، مانگ لے اور جو تو چاہتا ہے، تجھے ملے گا۔وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُونَ اس کی مثال ایسی ہی ہے، جیسے باپ بچے کا ہاتھ پکڑ کر کاغذ پر کچھ حروف ڈالتا ہے اور بچہ خوش ہوتا پھرتا اور ہر ایک کو بتا تا پھرتا ہے۔لیکن حقیقت میں وہ باپ کا لکھا ہوتا ہے۔یہی حال انسان کا ہے۔سارے کام تو خدا کرتا ہے مگر یہ اپنے ارادہ کے ادنی سے دخل سے پھولا نہیں سماتا اور ڈینگیں مارنے لگتا ہے۔دیکھو میں نے یہ کیا اور وہ کیا۔مگر بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ انسان نے ابھی تک اپنے ارادہ پر بھی قابو نہیں پایا اور اسے سراسر اللہ تعالیٰ کے لئے وقف نہیں کر دیا۔مگر افسوس کہ ابھی تک انسان یہ بھی نہیں کر سکا کہ جو نظام اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم میں رکھا ہے، اپنے کاموں میں اس کی ہی نقل کر سکے۔اگر وہ صرف اس کی ہی نقل میں کامیاب ہو جائے تو دنیا کے تمام فسادات یک قلم موقوف ہو جائیں اور انسان کی زندگی اور حیات کا صحیح مقصد پورا ہو جائے۔مگر اب ہزاروں ہزار سال گزر رہے ہیں، ابھی تک انسان نے اپنے ہی جسم کے نظام کی نقل نہیں کی۔انسان کے جسم میں ایسا اعلی نظام ہے کہ اس میں خلل واقع ہی نہیں ہوتا اور خود بخود سارا کام ہوتا رہتا ہے۔کبھی تصادم کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کے لئے اتنے سامان پیدا کئے ہوئے ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور ذرا بھی توجہ نہیں دیتا۔اسی وجہ سے روز بروز تنزل کی طرف جا رہا ہے۔ایک آدم نما ، اس کے دو ہی کان ، دو ہی ہاتھ اور دوہی پاؤں تھے اور وہ بھی ہماری طرح کا تھا۔مگر دیکھو اس سے اولاد کا اتنا 822