تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 740 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 740

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خلاصہ تقریر فرمود 140 جنوری 1947ء ساری دنیا کو چیلنج دے کر تم خود خواب خرگوش میں محو نہیں ہو سکتے تقریر فرمود و 14 جنوری 1947 ء بر موقع مجلس عرفان ہمارے کالجوں اور سکولوں کے بہت سے طلباء مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں اور واقفین کا ایک معتد بہ حصہ بھی موجود ہے۔آج میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ مفید اور کارآمد بنانا چاہیے۔تاوہ سلسلہ کے لئے مفید بن سکیں اور تاجب یہ مختصرسی زندگی گزارنے کے بعد وہ خدا کے سامنے پیش ہوں تو ان کے چہروں پر ندامت کے آثار نہ ہوں بلکہ راہ خدا میں عظیم الشان قربانیوں کی وجہ سے سرخروئی اور بامرادی کے آثار ہوں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے زندہ رہنے کے لئے اس نے اتنے سامان پیدا کئے ہیں کہ ان کا اندازہ لگانا بھی ناممکن ہے۔آدم سے لے کر اس وقت تک اللہ تعالیٰ انسان کو ترقی کے مختلف مدارج میں سے گزارتا ہوا اس بلند مقام پر لایا ہے۔اور نہ معلوم آئندہ کس قدر ترقی انسان کرے گا؟ پس وہ زندگی جس کے لئے دنیا کے یہ سارے سامان پیدا کئے گئے ہیں، کتنی قیمتی ہوگی ؟ انسان کا اگر تعداد کے لحاظ سے زمین کی دوسری مخلوق سے موازنہ کیا جائے تو اسے کوئی نسبت ہی نہیں۔ایک شہر ہی میں جس قدر کیڑے مکوڑے اور دوسری چھوٹی چھوٹی جاندار چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں ، وہ بھی ساری دنیا کے انسانوں کے برابر ہوں گی۔پھر اس دنیا کو دوسری دنیاؤں، جو چاند اور ستاروں میں آباد ہیں، کے ساتھ رکھ کر مقابلہ کیا جائے تو اس کی نسبت ان سے صرف اتنی ہوگی، جتنی اس دنیا سے ایک مکھی کو۔غرض یہ دنیا ان کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی۔پھر انسان کا اس دنیا کے بنانے یا بگاڑنے میں کوئی حصہ ہی نہیں۔اور وہ کام جو وہ اس دنیا میں کرتا ہے، کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتے۔وہ مادہ مثلا لو ہا لکڑی، پانی ہٹی وغیرہ جن سے یہ مختلف چیزیں بناتا ہے، سب خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں۔اس کا دخل صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ ان کی شکل بدل دیتا ہے۔دراصل خدا تعالی خالق اعمال بھی ہے۔وہ طاقتیں جن کے ذریعہ سے انسان چیزوں کی نکلیں بدلتا ہے ، سب اللہ ہی کی دی ہوئی ہوتی ہیں۔وہ اعضاء مثلاً ہاتھ ، پیر، آنکھ ، ناک وغیرہ جن سے یہ کام لیتا ہے، اللہ ہی کے دیئے ہوتے ہیں۔دماغ اور سوچنے سمجھنے کی طاقت بھی اللہ ہی نے دی ہوئی ہے۔821