تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 731 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 731

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اپریل 1946ء اپنے آپ کو پیش نہ کیا ہو۔کہتے ہیں جب مرتبان میں سے دوائی ختم ہو جاتی ہے تو تلاش کرنے سے اس کے کونوں میں سے کچھ نہ کچھ نکل آیا کرتی ہے۔پس بے شک بہت سے گریجوایٹ اور مولوی فاضل، جو ہماری جماعت میں پائے جاتے تھے اور جو اس کام کے لئے فارغ ہو سکتے تھے ختم ہو چکے ہیں اور اب ایک دو سال تک ہمیں نئے گریجوایٹوں اور مولوی فاضلوں کا انتظار کرنا ہوگا۔لیکن پھر بھی ممکن ہے کہ ابھی بعض گریجوایٹ اور مولوی فاضل رہتے ہوں ، جنہوں نے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش نہ کیا ہو۔اور کچھ ایسے گریجوایٹ اور مولوی فاضل بھی ہو سکتے ہیں، جو اس سال امتحان دینے والے ہوں۔بہر حال جو بچے کھچے مولوی فاضل اور گریجوایٹ ہوں، اسی طرح وہ گریجوایٹ اور مولوی فاضل، جو اس سال امتحان دینے والے ہوں، ان سب کو چاہئے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔اگر پچھلے سالوں کے مولوی فاضل اور گریجوایٹ اور کچھ ایسے مولوی فاضل اور گریجوایٹ ہمیں مل جائیں، جو اس سال امتحان دینے والے ہوں تو ہم ان سب کو تیار کر کے اس دن کا انتظار کر سکتے ہیں، جس دن ہمیں زیادہ شان اور زیادہ زور کے ساتھ دشمن پر دھاوا بولنا پڑے گا۔آخر یہ کام نہ چند روپوں کا ہے، نہ چند افراد کا ہے۔جس طرح جرمنوں اور انگریزوں کی جنگ میں کئی کروڑ فوجی شامل ہوئے تھے ، اسی طرح اس روحانی جنگ میں بھی ہمیں کروڑوں افراد دھکیلنے پڑیں گے۔بے شک ہماری موجودہ حالت ایسی نہیں کہ ہم اس جنگ میں کروڑوں افراد دھکیل سکیں۔لیکن ہمیں کام تو ایسے رنگ میں کرنا چاہیے کہ ایک دن کروڑوں تک پہنچ جانے کی امید کی جا سکے۔بہر حال جب تک وہ دن نہیں آتا ، ہمارا فرض ہے کہ ہمارے پاس موجودہ وقت میں جو انتہائی طاقت ہے، اسے صرف کر دیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جائیں۔اگر ہم اس وقت اپنی انتہائی طاقت خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لیے صرف کر دیں گے تو ہماری یہ انتہائی طاقت اس بات کی ضامن ہوگی کہ جس دن ہمارے پاس کروڑوں افراد آئے ، اس دن ہم اپنے کروڑوں افراد بھی اس خدمت کے لیے پیش کر دیں گے اور اس میں ایک لمحہ کا بھی تامل نہیں کریں گے۔دنیا محض الفاظ پر تسلی نہیں پاسکتی ، وہ ہمارے عمل کو دیکھتی اور اس سے نتائج اخذ کرتی ہے۔اگر ہم اپنے اندر جنون کا رنگ پیدا کر کے دنیا کو دکھا دیں گے اور ہم پاگلوں کی طرح ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بے تاب پھر رہے ہوں گے تو ان کی روح مطمئن ہوگی، وہ تسلی سے بیٹھ جائیں گے اور کہیں گے ، انہوں نے اپنے دل نکال کر ہماری طرف پھینک دیئے ہیں، انہوں نے اپنے جگر نکال کر ہماری طرف پھینک دیئے ہیں، انہوں نے اپنی انتڑیاں نکال کر 731