تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 730
خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اپریل 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پس ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے تا جب بھی غیر ممالک کی طرف سے کوئی مطالبہ آئے ہم فورا اس مطالبہ کو پورا کر سکیں۔یاد رکھو مومن جماعت وہ ہوا کرتی ہے، جس کے سپاہی ہر وقت تیار کھڑے رہتے ہیں ، صرف دروازہ کھلنے کی دیر ہوتی ہے۔دروازہ کھلتا ہے تو وہ اندر پہنچ جاتے ہیں۔مگر ہماری حالت یہ ہے کہ دروازے کھل رہے ہیں اور ہم سپاہیوں کو بھرتی کرنے کی فکر میں ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔میں جماعت کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایسے نازک موقع پر مومنوں کو غداری سے کام نہیں لینا چاہیے۔آج ہر شخص کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھے اور اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دے۔مگر چونکہ ہر شخص پہلے دن ہی اسلام کی خدمت نہیں کر سکتا بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ اسے کچھ مدت تک تعلیم دلائی جائے ، اس لئے ہم پہلے کچھ عرصہ تک انہیں دینی تعلیم دلائیں گے اور پھر اصل کام پر مقرر کر دیں گے۔بہر حال ماں باپ کر فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ، جو میٹرک پاس ہوں یا مڈل پاس، دین کی خدمت کے لئے ہمارے سامنے پیش کریں۔ان میں سے بعض کو مدرسہ احمدیہ میں اور بعض کو جامعہ احمدیہ کی سپیشل کلاس میں داخل کیا جائے گا تا کہ ان کو جلد سے جلد دین کی خدمت کے لئے تیار کیا جاسکے۔جب یہ نو جوان تعلیم حاصل کر لیں گے تو ہم اس دن کا انتظار کریں گے ، جب باہر سے مطالبات آئیں اور ہم ان کو بیرونی ممالک میں اعلائے کلمہ اسلام کے لئے بھجوا سکیں۔لیکن اس کے علاوہ ہمیں فوری طور پر بھی ایسے گریجوایٹوں اور مولوی فاضلوں کی ضرورت ہے، جن کو قلیل سے قلیل عرصہ میں کاموں پر لگایا جا سکے۔اس وقت ہمیں کئی قسم کے کارکنان کی ضرورت ہے۔مگر آدمیوں کی قلت کی وجہ سے ہمارے بہت سے کام ادھورے پڑے ہوئے ہیں۔اگر مولوی فاضل یا گریجوایٹ ہمیں مل جائیں تو ہم اس قسم کی ضروریات کو آسانی کے ساتھ پورا کر سکتے ہیں۔پس میں آج کے خطبہ کے ذریعہ ایک دفعہ پھر جماعت کو اس اہم امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس وقت ہماری بیچارگی حد سے بڑھی ہوئی ہے اور ہماری حالت احد کے ان مردوں کی طرح ہو رہی ہے، جن کے کفن کے لئے اتنا تھوڑا کپڑا تھا کہ اگر ان کے سرڈھانکتے تھے تو پیر ننگے ہو جاتے تھے اور اگر پیر ڈھانکتے تھے تو سر ننگے ہو جاتے تھے۔ہم ایک جگہ اپنا مبلغ بھجواتے ہیں تو دوسری جگہ کی مانگ کو پورا نہیں کر سکتے ، دوسری جگہ کی مانگ کو پورا کرتے ہیں تو پہلی طرف سے ہمیں غافل رہنا پڑتا ہے۔پس آج انتہائی ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ نو جوان، جو مولوی فاضل یا گریجوایٹ ہیں، اپنے آپ کو خدمت سلسلہ کے لئے پیش کریں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سے مولوی فاضل اور گریجوایٹ اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں۔لیکن ہو سکتا ہے کہ پھر بھی ابھی بعض مولوی فاضل اور گریجوایٹ چھپے بیٹھے ہوں اور انہوں نے اسلام کی خدمت کے لئے 730