تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 729
تحریک جدید- ایک البی تحر یک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود و 12 اپریل 1946ء حالات میں یہ لازمی بات ہے کہ جب احمدیت کی آواز ارد گرد کے علاقوں میں پھیلے گی اور لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگی کہ جامعہ ازہر میں پڑھنے والے احمدی بن رہے ہیں تو اور ہزاروں لوگوں اور اردگرد کے تمام علاقوں میں بھی جستجو پیدا ہوگی کہ آؤ ہم بھی دیکھیں وہ کون سی چیز ہے، جس نے از ہر پر بھی غلبہ پانا شروع کر دیا ہے؟ ہم بھی اس کی تحقیق کریں اور معلوم کریں کہ اصل حقیقت کیا ہے؟ اس وقت جب لوگ ہم سے مطالبہ کریں گے کہ آپ اپنے آدمی بھجوائیں ، جو ہمیں احمدیت کی حقیقت سمجھائیں۔کیا چیز ہے، جو ہم ان کو پیش کریں گے؟ کیا ہم ان کو یہ کہلا کر بھیجیں گے کہ ابھی ہم اپنے امراء میں جوش پیدا کر رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لئے مدرسہ احمدی میں داخل کریں؟ جس امراء کی اصلاح ہو جائے گی اور وہ اپنے لڑکوں کو مدرسہ احمدیہ میں بھجوانا شروع کر دیں گے تو ہم پہلے چار سال ان کو مدرسہ احمدیہ میں تعلیم دلوائیں گے، پھر جامعہ احمدیہ میں تعلیم دلوائیں گے اور پھر ایک عرصہ کے بعد جب ہمارے پاس علماء تیار ہو جائیں گے تو ہم انہیں تمہارے پاس بھجوا دیں گے؟ اگر ہم ان کو یہ جواب دیں گے تو ہمارا یہ جواب ایسا ہی ہوگا ، جیسے کہتے ہیں کہ ایک امیر کے پاس کوئی فقیر آیا اور اس نے کچھ صدقہ مانگا۔وہ امیر تھا بھیل۔اس نے اپنے نوکر کو آواز دی اور پھر اپنی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے بڑے بڑے نام لینے شروع کر دیے اور کہا کہ اے ہیرے ! تو موتی سے کہہ اور اے موتی ! تو زمرد سے کہہ اور اے زمرد! تو سونے سے کہہ اور اے سونے ! تو چاندی سے کہہ اور اے چاندی! تو اس فقیر کو کہہ کہ جاچلا جا، میرے پاس کچھ نہیں۔نام تو اس نے کتنے ہی لئے مگر آخر میں کہہ دیا کہ میرے پاس کچھ نہیں۔یہی ہم کریں گے کہ جس جس ملک سے مبلغین کا مطالبہ ہوگا ، ہم اس بخیل امیر کی طرح انہیں یہی کہ سکیں گے کہ ابھی ہم اپنی جماعت کے دوستوں کو تیار کر رہے ہیں اور ان کے دلوں میں ایمان پیدا کر رہے ہیں۔جس دن ان کے دلوں میں ایمان پیدا ہوگیا اور انہوں نے ہماری تحریک پر لبیک کہا ہم تمہاری ضروریات کو پورا کرنے کا انتظام شروع کر دیں گے۔کیا وہ ہمیں یہ جواب نہیں دیں گے کہ اگر تم ابھی اپنی جماعت میں ایمان ہی پیدا کر رہے ہو تو ہم نے کیوں بے وقوفی کی تمہارے پاس آئے ؟ ہم نے تو سمجھا تھا کہ تمہارے پاس ایمان ہے۔ایسی صورت میں دنیا ہمارے ان فقرات کا وہی جواب دے گی ، جو اس فقیر نے امیر کو دیا تھا۔جب امیر نے اپنے نوکروں کے بڑے بڑے نام لے کر کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں تو وہ فقیر کہنے لگا اے خدا! تو جبرائیل سے کہہ اور اے جبرائیل! تو اسرافیل سے کہہ اور اے اسرافیل ! تو میکائیل سے کہہ اور اے میکائیل ! تو عزرائیل سے کہ وہ اس بخیل امیر کی جان نکال لے۔ہم کو بھی دنیا کی طرف سے ایسا ہی جواب ملے گا اور ہم شرمندہ ہوں گے کہ ہم نے ان کے مطالبہ کو پورا نہ کیا۔729