تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 716
خطبہ جمعہ فرمود : 12 اپریل 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم ہیں یا نہیں؟ اور اگر آئی ہیں تو کتنی ہیں؟ اگر مجھے بتایا جاتا تو میں اندازہ لگا سکتا کہ حالات امید افزا ہیں یا مایوس کن ؟ بہر حال میرا فرض یہ ہے کہ میں چند سال تک متواتر جماعت میں بیداری پیدا کرتا چلا جاؤں۔یہاں تک کہ لوگوں پر اس کی اہمیت واضح ہو جائے اور وہ خود بخود اس طرف توجہ کرنا شروع کر دیں۔اس سال پھر میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لیے پیش کریں۔میں نے بتایا تھا کہ ان کے دو ہی مالک ہیں۔ایک سچا مالک ہے اور ایک جھوٹا مالک ہے۔ایک خدا ان کا مالک ہے اور ایک شیطان ان کا مالک ہے۔تم مجبور ہو اس بات پر کہ بہر حال ان دو میں سے ایک کے سپر دا پنی اولاد کو کر دو۔اگر تم کسی کے سپرد نہیں کرو گے تو بہر حال تمہاری اولا دیا خدا کی طرف چلی جائے گی یا شیطان کی طرف چلی جائے گی۔اگر تم اپنی اولادوں کو خدا کے سپرد نہیں کرو گے تو یقینا وہ شیطان کے قبضہ میں چلی جائیں گی۔اور اپنی اولادوں کو خدا کے سپرد کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے پاس ہر وقت اتنے علماء موجودر ہیں، جو خدا تعالیٰ کی آواز کو ہر احمدی اور غیر احمدی کے کان میں ڈالتے رہیں۔جب تک ہماری آواز دنیا میں چاروں طرف پھیل نہیں جاتی اور جب تک ایسا ماحول پیدا نہیں ہو جاتا کہ احمدیت اس میں زندہ رہ سکے، اس وقت تک ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمارا پیج بودینا کافی نہیں۔بلکہ اس پیج کے لیے مناسب ماحول کی بھی ضرورت ہے۔دنیا میں خالی پیج کافی نہیں ہوتا بلکہ پیج کے نشو و نما کے لئے زمین کی بھی ضرورت ہوتی ہے، ہوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے، پانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ساری چیزیں مل کر نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔صرف اتنا کافی نہیں ہوتا کہ بیج بود یا اور اٹھ کر گھر چلے گئے۔اسی طرح ایک احمدی کا جب تک ماحول بھی احمدی نہ ہو، اس کی احمد بیت دائمی طور پر زندہ نہیں رہ سکتی۔احمد بیت کی زندگی کی یہی صورت ہے کہ ایک احمدی بچہ جن بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے، وہ یا تو احمدیت قبول کرنے والے ہوں یا احمدیت کی آواز سے متاثر ہوں۔جن استادوں سے وہ تعلیم حاصل کرتا ہے ، وہ یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے مرعوب ہوں۔جن دفاتر میں وہ کام کرنے کے لئے جاتا ہے، ان میں کام کرنے والے اور اس کے دائیں بائیں اور ارد گرد بیٹھنے والے یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے مرعوب ہوں۔جن بازاروں میں وہ سودا سلف لینے کے لئے جاتا ہے، ان بازاروں میں تاجر اور دکاندار یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے مرعوب ہوں۔اسی طرح وہ اہل حرفہ اور اہل پیشہ، جو اس کے گھر پر کام کرنے کے لئے آتے ہیں یا یہ ان کے گھر پر کام کرانے کے لئے جاتا ہے، وہ سب کے سب یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے متاثر ہوں۔اگر ایک مزدور اس کے گھر پر مزدوری کے لئے آتا ہے یا یہ اس کے 716