تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 713
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 12 اپریل 1946ء کرے تو وہ جماعت یقیناً کامیاب ہو جاتی ہے۔جیسے ایک بچہ کو جب باپ پیار کرنے لگتا ہے تو ایک طرف بچہ اپنی ایڑیوں کے بل کھڑا ہو جاتا ہے اور دوسری طرف باپ اس کو پیار کرنے کے لئے نیچے کی طرف جھکتا ہے۔لیکن اگر بچے کا قد چیونٹی کے برابر ہوتا تو تم سمجھ سکتے ہو کہ نہ باپ اس قدر نیچے جھک سکتا اور نہ بچہ اس قدر اونچا ہوسکتا کہ وہ اپنے باپ کے پیار کو حاصل کر سکتا۔اتنا بڑا فرق جب بھی پیدا ہو جائے، قومی ہلاکت اور تباہی کا موجب بن جاتا ہے۔اور جب کسی جماعت کے افراد کے اندر اتنا بڑا فرق سخت مضر ہوتا ہے تو مبلغین کے اندرا گر اسی قسم کا تفاوت پیدا ہو جائے تو وہ کیوں مصر نہیں ہوگا ؟ بہر حال جب تک ہماری ساری جماعت علمی معیار کے لحاظ سے بلندی تک نہیں پہنچ جاتی اور جب تک ہماری جماعت موجودہ علمی حالت سے کئی گنا زیادہ ترقی حاصل نہیں کر لیتی ، اس وقت تک ہمیں اور بھی زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے بڑے علماء ہماری جماعت میں ہر وقت تیار رہیں۔اور اتنی بڑی تعداد میں رہیں کہ جماعت کو ضرورت کے وقت وہ آسانی کے ساتھ سنبھال سکیں۔اگر ہم ایسا نہیں کریں گے یا اتنی بڑی تعداد میں اپنی جماعت میں علماء پیدا نہیں کریں گے کہ وہ ضرورت کے وقت جماعت کو سنبھال سکیں ، اس وقت تک ہر ٹھوکر کے وقت جماعت کے گرنے کا خطرہ ہوگا اور علمی لحاظ سے بھی جماعت کبھی اتنی ترقی نہیں کر سکے گی کہ ضرورت کے وقت اس کے افراد آپ آگے بڑھیں اور جماعتی بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیں۔پس ضروری ہے کہ جماعت کے بڑھنے کے ساتھ ہی علماء کی تعداد بھی ہماری جماعت میں بڑھتی چلی جائے۔اس وقت ہماری جماعت میں علماء پیدا کرنے کا ذریعہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے، جب ہماری ضروریات کے لئے صرف مرکزی مدارس ہی نہیں ، ہندوستان کے کالج اور سکول بھی کافی نہیں ہوں گے۔اور ہمیں دنیا کے گوشہ گوشہ میں مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ قائم کرنے پڑیں گے۔بلکہ ہر براعظم میں ہمیں ایک بہت بڑی یو نیورسٹی قائم کرنی پڑے گی، جود مینیات کی تعلیم دینے والی ہو اور جس سے تبلیغ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جا سکے۔مگر جب تک ہمارا یہ خواب پورا نہیں ہوتا اور جب تک ہمیں ایسے سامان میسر نہیں آتے ، اس وقت تک ہمیں کم سے کم اتنا تو کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس جگہ جو مدرسہ عطا فرمایا ہے اور جو جماعت میں علماء پیدا کرنے کا واحد ذریعہ ہے، اس کی ترقی کے زیادہ سے زیادہ سامان مہیا کریں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس مدرسہ کی طرف ابھی تک پوری توجہ نہیں کی۔میں نے پچھلے سال جماعت کو مدرسہ احمدیہ کی 713