تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 708 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 708

خطبہ جمعہ فرمود : 22 مارچ 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم میں دیکھا کہ میں ایک نہر کے کنارے ایک بند پر کھڑا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اس علاقے میں طغیانی آ گئی ہے اور گاؤں کے گاؤں غرق ہونے شروع ہو گئے ہیں اور میں حیرت کے ساتھ یہ نظارہ دیکھ رہا ہوں کہ اتنے میں میرے ساتھیوں میں سے کسی نے مجھے آواز دی کہ پیچھے پانی بہت قریب آگیا ہے۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دیکھا کہ تمام قصبے اور گاؤں زیر آب ہو رہے ہیں اور پانی بہت قریب آگیا ہے۔جس کنارے پر میں کھڑا ہوں، وہاں کچھ اور اشخاص بھی میرے ساتھ کھڑے تھے۔تھوڑی دیر میں پانی اور بھی زیادہ قریب آگیا ہے اور اس نے وہ کنارا بھی اکھاڑ پھینکا ، جس پر میں کھڑا تھا۔اور میں نہر میں تیرنے لگ گیا ہوں۔یہ نہر دور تک چلی جاتی ہے اور اب ایک دریا کی شکل میں تبدیل ہوگئی ہے۔میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی جگہ میرے پیر لگ جائیں۔آخر میں تیر تا تیر تا فیروز پور کے آگے نکل کیا اور بار بارکوشش کے باوجود میرے پاؤں کہیں نہیں لگے۔اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ نہر تسلیح سے جاملی ہے اور اب یہ دریا، سندھ دریا میں ملنے کے لئے جارہا ہے۔تب میں بہت گھبرایا اور میں نے دعا شروع کی کہ یا اللہ سندھ میں تو میرے پیر لگ جائیں، یا اللہ سندھ میں تو میرے پیر لگ جائیں۔اس دعا کے بعد میں دیکھتا ہوں کہ یکدم ایک اونچی جگہ پر میرے پیر لگ گئے ہیں۔جب سندھ کا علاقہ آباد ہونا شروع ہوا تو یہ خواب مجھے یاد آ گئی اور اس خواب کی بنا پر میں نے یہاں زمینیں خرید لیں۔جس وقت میں نے یہ خواب دیکھی تھی ، اس وقت کے سندھ کے آباد ہونے کے کوئی آثار نہ تھے اور جتنے بڑے بڑے انجینئر تھے، وہ سب سکھر سے نہریں نکالنے کے خلاف تھے۔آخر لارڈ لائڈ نے جو کہ بمبئی کا گورنر تھا، چند انجینئروں کو اپنے ساتھ متفق کیا اور سکھر بیراج کی سکیم منظور کروالی اور اسی کے نام سے اس بیراج کا نام لائڈ ز بیراج“ ہے۔غرض یہ جائیداد ایک معجزہ اور ایک نشان ہے۔اس کا ہرایکڑ خدا تعالیٰ کے کلام کی تصدیق کر رہا ہے اور بتارہا ہے کہ اس جگہ جائیداد کا پیدا ہونا، ایک الہی سکیم کے مطابق ہے۔اور ہمیں چاہئے کہ اس جائیداد کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کریں۔پس اگر کسی دوست کو معلوم ہو کہ کسی جگہ اس علاقہ میں اور زمین ملتی ہے تو اسے ہمیں اطلاع دینی چاہیے۔اس وقت ہماری زمینیں ضلع میر پور خاص اور ضلع حیدر آباد میں ہی ہیں۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ سندھ کے تمام علاقوں میں ہماری زمینیں پھیل جائیں۔کیونکہ جہاں ہماری زمینیں ہوں گی، وہاں ہمارے کارکن بھی رہیں گے اور ان کے ذریعہ سندھیوں میں احمدیت پھیلے گی۔پس دوستوں کو اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے کہ جہاں کہیں کسی جائیداد کا پتہ لگے کہ وہ سلسلہ کے لئے فائدہ بخش ہو سکتی ہے، فورا مجھے یا تحریک جدید کو اطلاع دیں۔708