تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 707
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرمود و 22 مارچ 1946ء ہندوستان کی تمام تجارت عرب سے سندھ کے ذریعہ ہوتی ہے۔عرب کی کھجوریں، چٹائیاں ، رسیاں اور اسی قسم کی دوسری چیزیں کراچی آکر اترتی ہیں۔کراچی سے غلہ کھانڈ اور باقی اشیاء تجارت عرب کو جاتی ہیں۔یہ تجارت زیادہ تر کشتیوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔عربوں کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے جہالت کے زمانہ میں آکر ہم کو ظلمت سے نکالا، ہمیں اللہ تعالیٰ سے ملایا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روشناس کرایا۔یہ ان کی اتنی بڑی نیکی ہے کہ جس کا کسی طرح بدلہ نہیں دیا جا سکتا۔اور اب جبکہ عرب خدا تعالیٰ سے دور جاچکے ہیں، ہمارا فرض ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ سے ملائیں۔اور عربوں کو تبلیغ کرنے کا سب سے اچھا ذریعہ یہی ہے کہ ہم سندھیوں کو احمدی بنائیں۔اگر سندھی لوگ کثرت سے احمدی ہو جائیں تو ہماری آواز بہت ہی آسانی کے ساتھ عربی ممالک میں پہنچ سکتی ہے۔کیونکہ عرب کا اور سندھ کا سمندر ملا ہوا ہے۔عرب سے سندھ کو اور سندھ سے عرب کو کثرت سے کشتیاں آتی جاتی رہتی ہیں۔اگر کشتیاں چلانے والے یا کشتیوں کے مالک احمدی ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ عربی ممالک میں احمدیت کی آواز نہ پہنچے۔اگر ہم کشتیوں کی تجارت پر قابض ہو جائیں تو ہم بہت مؤثر پیرائے میں عرب میں تبلیغ کر سکتے ہیں۔خواہ عربی ممالک میں ہمارے مبلغوں کو داخلہ کی اجازت نہ بھی ہو۔کیونکہ دوسرے رستوں سے تو ہمارے مبلغوں کو حکومت روک سکتی ہے لیکن تجار کے رنگ میں کام کرنے والوں کو حکومت کس طرح روک سکتی ہے؟ اگر حکومت ان کشتیوں کی آمد ورفت روک دے تو اسے وہ چیزیں نہ مل سکیں گی ، جوان کو ہندوستان سے پہنچتی ہیں۔اور حکومت مجبور ہوگی کہ ان کشتیوں کو اپنے ساحل پر آنے دے۔پس یہ عربی ممالک میں تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کشتیوں کی تجارت میں احمدیوں کا ہاتھ ہو۔ہماری جماعت کو اس علاقہ کی اہمیت کو جاننا چاہئے۔صرف یہی نہیں کہ سندھ عرب کا دروازہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سلسلہ کو سندھ میں جائیداد میں عطا کی ہیں اور یہ بات بھی بلا وجہ نہیں۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہندوستان میں بلاوجہ نہیں بھیجا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا سندھ میں ہمیں جائیداد عطا کرنا ، بلا وجہ نہیں۔کیوں نہ اللہ تعالیٰ نے پنجاب میں یا یوپی میں ہمارے لیے زمین خریدنے کے سامان کر دیئے؟ پنجاب میں بھی زمینیں بکتی ہیں اور یوپی میں بھی اچھی اچھی زمینیں مل سکتی تھیں۔پھر یہاں سندھ میں لانے کی کوئی وجہ تو ضرور ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ زمینیں ایک خواب کی بناء پر خریدی گئی ہیں۔جب میں نے وہ خواب دیکھا تھا، اس وقت ابھی سکھر بیراج نہیں بنا تھا اور نہ اس قسم کی کوئی خاص سکیم تھی۔میں نے خواب 707