تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 701
جدید تحریک ہو ی۔ایک المی تحریک جلد دوم خطبه جمعه فرمود ه 22 مارچ 1946ء ضرورت ہے اس امر کی کہ جماعت کی تعداد کو جلد بڑھایا جائے خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مارچ 1946ء سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔جو کام اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے سپرد کیا ہے، وہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے لئے جن سامانوں کی ضرورت ہے ، ان کا مہیا کرنا، ہماری طاقت سے باہر ہے۔ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑی قربانی کرتی ہے۔اتنی بڑی قربانی کہ اس کی مثال دنیا کی کسی جماعت میں نہیں پائی جاتی۔ہندوستان میں ہماری تعداد پانچ چھ لاکھ ہے۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ ہے۔یعنی ہم فی دوسو دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہیں۔لیکن جتنی قربانی ہماری جماعت کرتی ہے، اس کا سواں حصہ بھی دوسرے مسلمان نہیں کرتے۔ہماری صدر انجمن کا سالانہ چندہ آٹھ لاکھ ہے۔اور تین لاکھ تحریک جدید کا چندہ ہے۔اس کے علاوہ دوسرے چندے جیسے کالج سکول اور مساجد وغیرہ کے بھی لاکھ ڈیڑھ لاکھ سالانہ ہو جاتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ یہ ساڑھے بارہ لاکھ ہو گیا۔اس کے علاوہ بہت سے چندے ایسے ہیں، جو مرکز میں بھیجے نہیں جاتے بلکہ مقامی طور پر خرچ کر لئے جاتے ہیں۔مثلاً افریقہ کے ایک علاقہ کا چندہ گزشتہ سال 30 ہزار سے زائد تھا۔وہ چندہ مرکز میں نہیں بھیجا جاتا بلکہ وہیں کے سکولوں، مدارس اور تبلیغی کاموں میں خرچ ہوتا ہے۔اسی طرح ہماری جماعتیں بڑے بڑے شہروں میں مساجد بنواتی ہیں تو اس کا خرچ بھی وہ خود برداشت کرتی ہیں۔مثلاً کلکتہ کی جماعت نے 80 ہزار روپیہ مسجد کے لئے جمع کیا ہے۔اگر ان چندوں کو بھی ملا لیا جائے تو پندرہ لاکھ سے اوپر ہماری جماعت کے سالانہ چندے ہو جاتے ہیں۔لیکن ہمارے مقابلے میں دوسرے مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ ہے۔اگر وہ بھی اسی طرح قربانی کریں، جس طرح ہماری جماعت قربانی کرتی ہے تو وہ کئی ارب روپیہ جمع کر سکتے ہیں۔غیر احمد یوں میں بعض آدمی ایسے ہیں کہ اگر وہ ہمت کریں تو وہ ایک ایک آدمی اپنی دولت کی زیادتی کی وجہ سے ہماری جماعت سے زیادہ چندہ دے سکتا ہے۔لیکن اگر اس بات کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بہر حال چونکہ وہ ہم سے دوسو گنے زیادہ ہیں، اس لئے ان کا چندہ بھی ہم سے دوسو گنا ہونا چاہئے۔جس کے معنی یہ ہوئے کہ ان 701