تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 696
اقتباس از خطاب فرموده 27 فروری 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم پس تم میں سے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگیاں وقف کریں تا ہماری جماعت کا پھیلاؤ آئندہ مرکز کے ساتھ ساتھ اپنے رشتہ کو قائم رکھ سکے۔اگر بیر ونجات میں پھیلا ؤ زیادہ ہے اور مرکز چھوٹا ہے یا مرکز پھیلتا چلا جارہا ہے لیکن بیر ونجات میں تبلیغ کا دائرہ وسیع نہیں تو دونوں صورتوں میں جماعت ٹوٹ جاتی ہے۔وہ آدمی عقلمند نہیں ہوتا، جس کا جسم کامل انسان جیسا ہو لیکن سر چھوٹا ہو۔جیسے شاہ دولے کا چوہا ہوتا ہے۔تم میں سے بہتوں نے اسے دیکھا ہوگا۔اسی طرح وہ بھی احمق ہوتا ہے، جس کا سر بہت بڑا ہوتا ہے اور جسم چھوٹا ہوتا ہے۔اس کا سر اس لئے بڑا نہیں ہوتا کہ وہ بڑا عقلمند ہے۔بلکہ ہڈیوں کے بڑھ جانے کی وجہ سے ہوتا ہے اور ہڈیوں کا بڑھ جانا بھی نقص کی وجہ سے اور صحت کی خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس لئے دونوں نسبتیں قائم رہنی چاہئیں۔اگر سر جسم کی نسبت سے بہت چھوٹا ہو جائے تو بھی انسان بے وقوف ہوگا اور اگر جسم کی نسبت سے سر بہت بڑا ہو گا تو بھی بہت بے وقوف ہوگا۔دنیا میں سب سے بڑے سر ہا ئنٹسٹ افریقن قبیلہ کے ہوتے ہیں۔یہ کوئی زبان اچھی طرح سیکھ لینے کے بعد بھی اسے چار، پانچ سال میں بالکل بھول جاتے ہیں۔پس مرکز کا چھوٹا ہونا اور شاخوں کا پھیل جانا بھی خطرناک ہے اور شاخوں کا چھوٹا ہونا اور مرکز کا پھیل جانا بھی خطرناک ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم ان دونوں چیزوں کا توازن قائم رکھیں۔اگر ان دونوں چیزوں کا توازن قائم نہ رکھ سکے تو ہم کامیاب نہ ہوسکیں گے۔اس کے بعد میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے نو جوانوں کو صحیح طور پر اسلام کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور ان کے اندر وہ صحیح جذبات پیدا کرے، جو زندہ قوموں کی کامیابی کے لئے ضروری ہوتے ہیں اور جن کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے اور علم کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔( مطبوع الفضل 08 مارچ 1946ء) 696