تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 684
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود : 15 فروری 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم مقابل پر ہم دنیا کو روحانی خوراک کے تین چاول پیش کرتے ہیں۔کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ ایک محنت کش اور مزدور پیشہ زمیندار کو تم تین چاول صبح اور تین چاول شام دے کر زندہ رکھ سکتے ہو؟ اگر ایک محنت کش مزدور کو تم تین چاول صبح اور تین چاول شام دے کر زندہ نہیں رکھ سکتے تو تم دنیا کو بھی 33 مبلغین کے ساتھ کسی صورت میں زندہ نہیں رکھ سکتے۔مگر یہاں تو سوال زندہ رکھنے کا نہیں بلکہ سوال زندہ کرنے کا ہے۔زندہ رکھنے کے لئے تو بے شک پانچ چھٹانک غذا کافی ہو جائے گی۔لیکن مردہ نہ سہی، نیم مردہ کو بھی زندہ کرنے کے لئے یہ غذا کافی نہیں ہوسکتی۔بلکہ اس کے لئے کئی سیر غذا کے خلاصہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ ایسی حالت میں جو Stimulant استعمال کئے جاتے ہیں، وہ سیروں خوراک کا نچوڑ ہوتے ہیں۔پس زندہ کرنے اور زندہ رکھنے میں فرق ہے۔ہماری جماعت کے مبلغ اس لئے نہیں گئے کہ وہ لوگوں کو زندہ رکھیں بلکہ اس لئے گئے ہیں کہ وہ لوگوں کو زندہ کریں۔اس لئے ان کی مثال دنیا کے مقابلہ میں ایسی بھی نہیں جیسی تین چاولوں کی ہوتی ہے۔بلکہ ان کی مثال تو ایک چاول کے ہزارویں حصہ کی بھی نہیں رہ جاتی۔جس طرح ایک شخص کا روٹی کی بجائے صرف سانس لے لینا اسے زندہ نہیں رکھ سکتا ، اسی طرح یہ مبلغ دنیا کی ضروریات کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔یہ ایک پیج ہے، جو زمین میں بویا گیا مگر وہ بیچ نہیں ، جو کسی ملک کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بویا جاتا ہے۔گورنمنٹ بیج ہوتی ہے تو وہ یہ امر مد نظر رکھتی ہے کہ اتنا بیج ہو، جو آٹھ ، دس یا پندرہ میں سال میں سارے ملک کی ضروریات کو پورا کر سکے۔لیکن ہمارا یہ پیج اس قسم کا بھی نہیں۔بلکہ ہمارا پیج اس قسم کا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی پیدائش کے وقت دنیا میں بویا اور وہ لاکھوں لاکھ سال میں ترقی کو پہنچا۔اگر اس تدریجی ترقی کے ساتھ یہ بیج بڑھا تو اس کے لئے لاکھوں یا ہزاروں سال کی ضرورت ہوگی۔لیکن دنیا میں کوئی مذہب بھی آج تک ہزار سال تک زندہ نہیں رہا۔موجود تو رہا ہے مگر زندہ نہیں رہا۔ہندو مذہب ہندؤوں کے مقولہ کے مطابق لاکھوں سال سے ہے اور یوروپین لوگوں کی تحقیقات کے مطابق یہ مذہب اڑھائی تین ہزار سال سے ہے۔مگر مذہب کا موجود ہونا اور چیز ہے اور مذہب کا زندہ ہونا اور چیز ہے۔وہ حقیقتیں جو رشی لائے تھے ، وہ حقیقتیں جو کرشن اور رام چندر لائے تھے، وہ اب کہاں ہیں؟ وہ زندگی کا ثبوت، جو حضرت کرشن اور حضرت رام چندر پیش کیا کرتے تھے، وہ اب کہاں ہے؟ وہ ان کا خدا سے مکالمہ مخاطبہ اب کہاں ہے؟ اور کن لوگوں کے ساتھ ہے؟ یہ نہ سہی وہ کون سے ہندو ہیں، جو ویدوں پر عمل کرتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ آج ساری ہند ود نیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں جو کہ سکے 684