تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 680 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 680

خطبه جمعه فرموده یکم فروری 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم زندہ کر دیا۔شوجی نے غصے میں آکر اسے پھر مار دیا۔برہما نے اسے پھر زندہ کیا۔شوجی نے اسے پھر ماردیا اور برہما نے اسے پھر زندہ کر دیا اور غالبا یہ سلسلہ اس وقت سے لے کر اب تک جاری ہے اور آسمان پر بر ہما جی اسے زندہ کرتے ہیں اور شوجی اسے مارتے ہیں۔یہ ہے تو ایک کہانی ، مگر اس میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کی راہ میں مارا جائے تو خدا اس کو دوبارہ دنیا میں زندہ کر دیا کرتا ہے۔یہ ایک بہت ہی قیمتی حقیقت ہے کہ خدا کے پرستار مرا نہیں کرتے۔وہ مرتے ہیں تو پھر زندہ کر دیئے جاتے ہیں۔کئی لوگ ہیں ، جنہوں نے خدا کے لئے جانیں دیں اور وہ بے نسل تھے، جوان تھے ، ابھی ان کی شادیاں بھی نہیں ہوئی تھیں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو گئے۔مگر ان کا نام آج تک زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک حضرت عثمان بن مظعون بھی تھے۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب صحابی تھے۔وہ ابھی نوجوان تھے ، پندرہ سولہ سال کی عمر تھی کہ اسلام لائے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے راستہ میں اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ کسی نے جوش میں آکر آپ کی ایک آنکھ نکال دی۔انہوں نے ہجرت کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شامل ہوئے اور جنگ احد کے موقعہ پر شہید ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نہایت ہی پیارے تھے۔اس قدر پیارے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم جب فوت ہوئے تو آپ نے ان کو نسل دے کر قبر میں ڈالتے ہوئے ، یہ الفاظ فرمائے کہ جا، اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون کو اپنا بیٹا قرار دیا۔عثمان بن مظعون غالباً بغیر شادی کے اور بغیر اولاد کے فوت ہوئے تھے۔لیکن آج اگر اس زمانہ میں دنیا کی سطح پر نوے فیصدی آبادی عثمان بن مظعون کی اولاد ہوتی۔ایسے عثمان بن مظعون کی ، جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہ ہوئی ہوتی۔ایسے عثمان بن مطعون کی ، جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام کی قربانیوں کی توفیق نہ ملی ہوتی۔ایسے عثمان بن مظعون کی ، جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جان قربان کرنے کی توفیق نہ ملی ہوتی تو یقینی اور قطعی طور پر وہ نوے فیصدی آبادی دنیا کی نہ جانتی کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے ہمارا ایک دادا تھا، جس کا نام عثمان بن مظعون تھا۔اگر کسی نہ کسی رنگ میں وہ عثمان بن مظعون کا نام بھی سنتے تو ان کے دلوں میں کوئی پیدا نہ ہوتا اور نہ کوئی تحریک ہوتی کہ وہ اس کے لئے دعا کریں۔لیکن آج جبکہ تیرہ سو سال گزر چکے ہیں، جبکہ عثمان بن مظعون کے جسمانی تعلق کو دنیا سے ختم ہوئے تیرہ سوسال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔صرف اس قربانی کی وجہ سے جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کی ، اس قربانی کہ وجہ۔680