تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 681
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده یکم فروری 1946ء جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے لئے کی ، جب بھی ایک مومن عثمان بن مطعون کا نام لیتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔بہر حال مرنے والے مرتے ہیں۔بعض بغیر نسل کے مرجاتے ہیں اور بعض اولاد چھوڑ کر مر جاتے ہیں۔مگر باوجود اس کے دنیا میں ان کی اولا دزندہ ہوتی ہے۔آخر وہ بے نسل ہی ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی اولا دان کے ناموں سے واقف نہیں ہوتی۔مگر جو خدا تعالیٰ کے لیے مارے جاتے ہیں، بے نسل ہوتے ہوئے بھی ان کی نسل دنیا میں باقی رہتی ہے اور ہر مومن اپنے آپ کو ان کی اولاد میں سے سمجھتا ہے۔اور ہر مومن کے دل سے ان کے لئے دعائیں بلند ہوتی ہیں، جو ان کے درجات کو بڑھاتی رہتی ہیں۔پس وہ لوگ جو خدائے واحد کے لئے اپنی زندگی دیتے ہیں، وہ موت قبول نہیں کرتے بلکہ زندگی قبول کرتے ہیں۔اور جو خدا تعالیٰ کے دین کے لیے جان دینے سے گریز کرتے ہیں، وہ زندگی حاصل نہیں کرتے بلکہ موت کو قبول کرتے ہیں۔پس تمہارے سامنے دونوں راہیں ہیں۔زندگی کی بھی اور موت کی بھی۔تم میں سے ہر عقلمند اپنے لئے خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ کیا وہ موت کو پسند کرتا ہے یا زندگی کو؟ کیا وہ خدا تعالیٰ کے حضور اس کے دین کے لئے اپنی جان پیش کر کے اس کی محبت اور ابدی زندگی کو حاصل کرنا چاہتا ہے یا بظاہر اپنی جان بچا کر لعنت کی موت اور گمنامی کی ذلت حاصل کرنا چاہتا ہے؟“ ( مطبوعه الفضل 05 فروری 1946ء) 681