تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 679
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم - خطبه جمعه فرموده یکم فروری 1946ء آواز بلند کرتا ہے تو لوگ اپنے جوابوں کے ذریعہ فضا میں گونج پیدا کر دیتے ہیں۔کسی جگہ گاندھی جی کی آواز اٹھتی ہے تو لوگ پروانہ وار اس کی طرف بھاگتے ہیں کسی مجلس میں مسٹر جناح کی آواز اٹھتی ہے تو لوگ پروانہ وار اس کی طرف دوڑتے ہیں۔مگر تم جانتے ہو تمہیں کس کی آواز بلا رہی ہے؟ میری نہیں کسی اور انسان کی نہیں، کسی اور بشر کی نہیں بلکہ عرش پر بیٹھے ہوئے خدا نے ایک آواز بلند کی ہے۔تمہیں پیدا کرنے والا رب تمہیں اپنے دین کے لئے قربانی کرنے کے لئے بلاتا ہے۔دنیوی لیڈروں کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی لبیک کا نتیجہ موت یا فتح ہو سکتی ہے اور دائی موت بھی نتیجہ ہوسکتی ہے۔مگر خدا تعالی کی آواز کا جواب دینے والوں کے لئے سوائے زندگی کے کچھ نہیں۔اس کو کوئی شیطانی طاقت مار نہیں سکتی۔کیونکہ جو پیدا کرنے کے لئے مارا جاتا ہے، وہ ہمیشہ ہی زندہ کیا جاتا ہے۔ہے تو یہ ایک کہانی اور تمسخر کی بات مگر ہندو بزرگوں نے لوگوں کو نیکی کی ترغیب دلانے کے لئے حقیقت کو ایسے واقعات میں بیان کیا ہے۔ان میں ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک راجہ تھا، اس کی اولاد نہیں ہوتی تھی۔کسی نے اسے بتایا کہ برہما، جو اصل خدا کا نام ہے اور جو سب سے بڑا خدا ہے اور جو اولا د دینے والا ہے، اس کی پرستش کرو۔(ہندوؤں میں خدا تعالیٰ کے جس قدر نام ہیں، وہ سب اس کی طاقتوں یا ملائکہ کے نام ہیں۔لیکن آہستہ آہستہ ان کو خدا کا درجہ دے دیا گیا اور ان کی پرستش شروع کر دی گئی اور برہما کو چھوڑ دیا گیا۔اب شاید صرف ایک جگہ برہما کا معبد ہے اور کہیں بھی نہیں۔چنانچہ اس نے برہما کی پرستش شروع کر دی۔کچھ عرصہ کے بعد اس کے گھر لڑکا پیدا ہوا۔جب لڑکے نے ہوش سنبھالا تو باپ کے دل میں خیال آیا کہ بر ہما نے جو کام کرنا تھا، کر لیا، اب مارنا تو شوجی نے ہے، اس لئے اب بر ہما کو چھوڑ کر شوجی کی پرستش شروع کر دینی چاہیے۔چنانچہ اسی خیال سے اس نے برہما کو چھوڑ کر شوجی کی پرستش شروع کر دی۔جب لڑکا بڑا ہوا اور اس نے یہ باتیں سنیں کہ میری پیدائش اس رنگ میں ہوئی تھی تو اس نے برہما کی پرستش شروع کر دی۔باپ نے بہت منع کیا۔لیکن اس نے باپ کی بات کو نہ مانا اور کہا جس نے احسان کیا ہے، میں تو اس کی پرستش کو نہیں چھوڑ سکتا۔آخر باپ بیٹے میں لڑائی شروع ہوئی اور اس نے اتنا طول پکڑا کہ باپ کے دل میں ضد اور غصہ پیدا ہو گیا اور اس نے بیٹے کے خلاف شوجی سے دعا مانگی کہ یہ میرا بیٹا باغی ہو گیا ہے اور باوجود منع کرنے کے آپ کی پرستش نہیں کرتا بلکہ برہما کی پرستش کرتا ہے۔آپ اس کی جان نکال لیں۔چنانچہ شوجی نے اس کی جان نکال لی۔جب بر ہما کو معلوم ہوا کہ وہ، جو میری پرستش کرتا تھا، اس کو میری وجہ سے مارا گیا ہے تو اس نے کہا کہ میں اسے دوبارہ زندہ کروں گا۔چنانچہ اس نے اسے دوبارہ 679