تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 678 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 678

خطبه جمعه فرموده یکم فروری 1946ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق ایک دن اس کا دل پورے کا پورا سیاہ ہو جائے گا۔ہماری جماعت کے لئے یہ خطرہ بہت زیادہ ہے۔اس لئے کہ متواتر اور متواتر اور متواتر ہر جمعہ اور ہر تقریب پر ان کو خدا تعالیٰ کے دین کی طرف بلائے جانے کے لئے آواز بلند کی جاتی اور دین اسلام کے لئے قربانی کرنے کے لئے تحریک کی جاتی ہے۔ہر ذریعہ کو استعمال کر کے اسلامی اور قرآنی شواہد کو استعمال کر کے صحابہ کی بے نظیر قربانیوں کا نمونہ بنا کر ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہشات کو بیان کر کے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کو پیش کر کے، آپ کے زمانہ کے صحابہ کی قربانیں پیش کر کے عقل کے ساتھ زمانہ کے حالات اور زمانہ کے مفاسد دکھا دکھا کر ، غرض ہر رنگ میں تحریک کی جاتی ہے۔اور جب بھی وہ تحریک ہوتی ہے، نو جوانوں کے دلوں میں ہمیشہ خیال پیدا ہوتا ہوگا کہ ہم بھی اس پر عمل کریں۔لیکن پھر ارد گرد کی مشغولیتیں، دوستوں کی مجلسیں اور اپنے عزیزوں اور ماں باپ کی حاجتیں حائل ہو جاتی ہوں گی۔ان کے دل کا سفید نقطہ مرجھانا شروع ہو جاتا ہوگا اور اس کی جگہ سیاہ نقطہ لگ جاتا ہوگا۔اور ہر دفعہ جب یہ تحریک ہوتی ہوگی ، بجائے ان کو نیکی کی طرف توجہ دلانے کے ان کے سفید نقطہ کو آہستہ آہستہ سیاہ نقطہ میں تبدیل کر دیتی ہوگی۔پس جہاں یہ بار بار کی تحریکیں جماعت کے ایک حصہ میں بیداری پیدا کرنے کا موجب ہیں، وہاں دوسرے حصہ کے لئے خطرناک بھی ہیں۔کیونکہ وہ انہیں نظر انداز کرنے کے بعد اپنے دل پر سیاہ نقطہ لگانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔پس جماعت کے دوستوں کو جن کے دلوں میں ان تحریکوں سے کوئی نیکی کا ارادہ پیدا ہوتا ہے، چاہئے کہ جلد از جلد اپنے مقصود اور نیک ارادوں کو پورا کرنے کے لئے قدم اٹھا ئیں۔دنیا میں انسان پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں، دنیا میں مغلوب بھی ہوتے ہیں اور غالب بھی ہوتے ہیں مگر سب سے زیادہ خوش قسمت وہ لوگ ہوتے ہیں، جو نبی کے زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ خوش قسمت وہ قوم ہوتی ہے، جو اس کے ابتدائی زمانہ میں ایمان لاکر خدا تعالیٰ کے نبی کے ساتھ ہر قسم کی قربانی میں شریک ہو جائے۔اس کے مقابلہ میں سب سے زیادہ بد قسمت لوگ وہ ہوتے ہیں، جنہوں نے نبی کا زمانہ پایا لیکن اس کو نہ مانا۔پھر سب سے زیادہ بد قسمت وہ شخص ہوتا ہے، جس نے نبی کا زمانہ پایا اور خدمت کے مواقع بھی آئے لیکن اس نے خدمت نہ کی اور آسمانی تحریک اور آسمانی آواز کو کمزور کرنے کا موجب ہو گیا۔پس میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ کام کا وقت ہے، باتیں بنانے کا وقت نہیں۔خدا تعالیٰ تمہارے دلوں پر نگاہ کئے بیٹھا ہے، دنیا کے بادشاہ نہیں۔بعض دفعہ ایک معمولی انسان بھی خداتعالی دلوں پر بیٹا ہے،دنیا دفعہ 678