تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 677

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده یکم فروری 1946ء عرش پر بیٹھا خدا تمہیں اپنے دین کی خاطر قربانی کرنے کے لئے بلاتا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ یکم فروری 1946ء سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔چونکہ یہ دن دوائی کی باری کے ہیں اور ان دواؤں سے مجھے ضعف کی شکایت ہو جاتی ہے، اس لئے میں زیادہ بول نہیں سکتا۔صرف اختصار ا جماعت کو میں پھر اس مضمون کی طرف توجہ دلاتا ہوں ، جس کی طرف میں نے گزشتہ جمعہ میں بھی توجہ دلائی تھی۔بالخصوص اس امر کی طرف میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت متواتر مبلغین کی مانگیں آرہی ہیں۔بیرون ہند سے ہی نہیں بلکہ ہندوستان سے بھی۔اور بعض لوگ اپنے خرچ پر بھی مبلغ رکھنے کے لئے تیار ہیں۔مگر ہمارا مبلغین کا خزانہ بالکل خالی ہو چکا ہے۔وہ مبلغ، جو باہر گئے ہیں، ابھی ان کے قائم مقام بھی ہمارے پاس پورے نہیں۔قریبا 25 مبلغ باہر جاچکے ہیں لیکن ان کے قائم مقام ہمارے پاس صرف دس ہیں، جواس وقت تعلیم پارہے ہیں اور ان میں سے بعض ایک لمبے عرصہ کے بعد تعلیم سے فارغ ہوں گے۔چنانچہ جو طالب علم آئندہ نکلنے والے ہیں، ان میں سے اکثر ایسے ہیں، جو تین سال کے اندر بھی فارغ نہیں ہو سکتے۔کچھ چار سالوں میں فارغ ہوں گے اور کچھ پانچ سالوں میں۔پس جماعت کے وہ نوجوان ، جن کے دلوں میں باہر جانیوالے لوگوں کے کارنامے پڑھ پڑھ کر گدگدیاں پیدا ہوتی ہیں اور انہیں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش ہم بھی یہ کام کر سکتے ، ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ نیک تحریکیں بھی دور کے طور پر آیا کرتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جب کوئی شخص نیکی کا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سفید نقطہ لگ جاتا ہے اور جب کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔اسی طرح سیاہ اور سفید نقطے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ اگر کسی کی نیکیاں غالب آجاتی ہیں تو اس کا سارا دل سفید ہو جاتا ہے اور اگر کسی کی بدیاں غالب آجاتی ہیں تو اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔پس جب کسی شخص کے دل میں نیکی کی تحریک پیدا ہو، اس کو چاہئے کہ جلد اس کی طرف قدم اٹھائے۔ورنہ اگر بار بار تحریک کے باوجود اس کا قدم نہ اٹھا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ رسول کریم صلی اللہ ) 677