تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 673
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 25 جنوری 1946ء سینے میں دوسرے سے کم نہیں۔مگر مسلمان سپاہی اس کو آزاد کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ حضرت سعد کی ناراضگی سے ڈرتے تھے۔آخر ان کی بیوی نے کہا کہ خواہ کچھ ہو جائے ، میں اس کی زنجیر کھول دیتی ہوں، مجھ سے اس کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی۔انہوں نے اس کی زنجیر کھول دی اور اسے آزاد کر دیا۔وہ منہ پر نقاب ڈال کر مسلمانوں میں شامل ہو گیا۔مسلمان لشکر کے ساتھ مل کر وہ جس جگہ بھی حملہ کرتا باقی لشکر کے دل بھی بڑھ جاتے تھے۔جب شام کولڑائی بند ہوئی تو وہ بھاگ کر اپنی جگہ پر آ گیا اور حضرت سعد کی بیوی نے اس کو پھر زنجیر لگادی۔حضرت سعہؓ کو شک پڑتا تھا کہ آج حملہ کے وقت فلاں آدمی معلوم ہوتا تھا کیونکہ حملہ تو اسی طرح کرتا تھا۔پھر کہتے وہ تو قید ہے، وہ نہیں کوئی اور ہوگا۔اگلے دن پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو حضرت سعد کی بیوی نے اسے کھول دیا اور وہ پھر مسلمانوں کے لشکر میں جا ملا اور نہایت شجاعت اور بہادری سے دشمن کے لشکر پر حملہ کرتارہا۔آخر شام کو جب مسلمانوں کو فتح ہوئی اور حضرت سعد ” کوشک پڑ گیا کہ حملہ کے وقت مجھے وہی سپاہی معلوم ہوتا تھا ، جسے میں نے قید کیا ہوا ہے۔بیوی سے کہا تمہاری شرارت معلوم ہوتی ہے۔معلوم ہوتا ہے تم نے اسے کھول دیا تھا۔میں تمہیں قانون شکنی کی سزا دوں گا۔بیوی نے کہا آپ جو سزا چاہیں، مجھے دیں۔لیکن میری غیرت نے یہ برداشت نہ کیا کہ میرا خاوند تو محض لڑائی کا نظارہ دیکھتار ہے اور جس شخص کو اسلام کا اس قدر درد ہو کہ وہ لڑائی کی آوازوں پر زنجیر توڑنے کی کوشش کرے، اسے اس طرح قید رکھا جائے۔بیوی کی یہ دلیرانہ بات سن کر حضرت سعد کا رض غصہ جاتا رہا اور انہوں نے اس نو مسلم کو معاف کر دیا۔پس عورتوں میں جذباتی رنگ غالب ہوتا ہے۔لجنہ اماءاللہ کا فرض تھا کہ وہ عورتوں کے سامنے بیان کرتی کہ آج اسلام کو ان کے نوجوان لڑکوں کی ضرورت ہے۔آج اسلام کو ان کے خاوندوں کی ضرورت ہے۔آج اسلام کو مالوں کی ضرورت ہے۔اور ان کا فرض ہے کہ وہ ہر چیز بلا در یخ پیش کر دیں۔اگر یہ طریق اختیار کیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ، جو ایمان میں کمزور تھے ، وہ بھی اعلیٰ اخلاص کا نمونہ پیش کرتے۔ایک شخص نے مجھے بتایا کہ مجھے تو میری بیوی نے پختہ احمدی بنایا ہے۔جب میں تنخواہ لے کر آتا تو وہ مجھے کہتی ہے کہ کیا آپ چندہ دے آئے ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ کل دے دوں گا تو وہ کہتی ہے کہ میں اس مال سے کھانا نہیں پکاؤں گی۔اس پر بسا اوقات مجھے آدھی آدھی رات کو جا کر چندہ دینا پڑا۔اور جب میں رسید دکھاتا تب وہ کھانا پکاتی نہیں تو کہہ دیتی کہ میں حرام روپیہ سے کھانا نہیں پکاؤں گی۔پس اگر عورتیں ہمارا ساتھ دیں اور وہ بچوں سے کہیں کہ اگر تم زندگی وقف نہ کرو گے، اگر تم اپنے اندرد بیداری پیدا نہ کرو گے تو میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔اور میں خدا تعالیٰ سے کہوں گی کہ اس نے 673