تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 671 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 671

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 25 جنوری 1946ء طرح بعض لڑکے اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتے ہیں اور ماں باپ روکتے ہیں کہ زندگی وقف نہ کرو۔بلکہ کسی دوسری جگہ ملازمت کرلو، چندہ سے دین کی خدمت کرتے رہنا۔حالانکہ جہاں آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں چندہ سے کام نہیں بنتا۔میرے نزدیک اس کی ایک حد تک ذمہ داری لجنہ اماءاللہ پر بھی ہے۔اگر لجنہ اماء اللہ دین کی ضرورتوں اور وقف کی اہمیت کو اچھی طرح عورتوں کے ذہن نشین کرا دے تو سال کے اندراندر جس طرح کہتے ہیں کہ زمین نے اپنا کلیجہ نکال کر باہر رکھ دیا، اسی طرح عورتیں بھی اپنا کلیجہ نکال کر باہر رکھ دیں۔عورتوں کا کلیجہ اولا د ہوتی ہے، اگر مائیں اپنے لڑکوں کو زندگی وقف کرنے اور دوسرے دینی کاموں میں حصہ لینے کی تحریک کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ بہت زیادہ نوجوان اپنے آپ کو وقف کرنے لگ جائیں۔اسلامی تاریخ میں ایک واقعہ آتا ہے کہ اسلامی لشکر کو ایک جگہ کچھ شکست ہوئی۔حضرت عمر نے تمام آدمی، جو مہیا کئے جاسکتے تھے، اس لشکر کی مدد کے لئے بھیج دیئے۔مگر لشکر پھر بھی کم تھا۔ایرانی لشکر کی تعداد ایک لاکھ تھی اور مسلمانوں کی تعداد میں ہزار تھی۔اور جس مقام پر یہ جنگ ہورہی تھی ، اس مقام کے درمیان اور مدینے کے درمیان کوئی روک نہ تھی۔اسلامی جرنیل نے اس وقت ایک تقریر کی کہ تم آج اسلام کے احیاء اور بقاء کے ذمہ دار ہو۔اگر تم آج شکست کھا گئے تو تمہارے اور مدینے کے درمیان کوئی فوج نہیں ، جو اس لشکر کو روک سکے۔اگر دشمن یہاں سے نکل گیا تو سیدھا مدینے پر جا کر حملہ کرے گا۔اس وقت خنسا نامی ایک مشہور شاعرہ عورت نے اپنے تینوں لڑکوں کو بلایا اور کہا تمہارا باپ بد کار تھا۔میں اپنے بھائی سے قرض لا لا کر اسے دیتی رہی۔آخر وہ مر گیا۔تم چھوٹے چھوٹے رہ گئے۔میں نے محنت مزدوری کر کے تمہیں پالا اور اپنی ساری زندگی پاکیزگی اور پاکدامنی سے گزاری اور تم ان تمام باتوں کے گواہ ہو۔انہوں نے کہا ، ہاں۔پھر خنساء نے کہا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں بہت محنت مشقت سے پالا ہے اور اس کے بدلے میں نے تم سے کوئی خدمت نہیں لی۔انہوں نے کہا، ہاں ٹھیک ہے۔پھر ماں نے کہا تم میرے تین بچے ہو اور تمہارے بغیر میرا دنیا میں کوئی نہیں اور میری محبت تمہاری خدمت سے ظاہر ہے۔دیکھو آج اسلام پر ایسا وقت ہے کہ اسے لڑائی کے لئے آدمیوں کی ضرورت ہے۔اس لئے تم لڑائی میں جاؤ۔اگر شام کو فتح پا کر لوٹے تو زندہ لوٹنا نہیں تو تمہاری لاشیں میدان جنگ میں پڑی ہوئی نظر آئیں۔اگر تم نے میرا یہ حکم نہ مانا تو میں قیامت کے دن تمہیں دودھ نہیں بخشوں گی۔لڑکوں نے کہا، ہاں اماں ہمیں منظور ہے۔یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گئے۔سب سے بڑی مصیبت جو مسلمانوں کو اس جنگ میں پیش آئی، وہ یہ تھی کہ ایرانی 671