تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 664 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 664

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم ہی ہے، جیسے گنا پہلیں تو رس تو ہمارا دشمن لے جائے اور چھل کا ہم لے آئیں۔جس کا کچھ حصہ ہم جلا دیں اور کچھ حصہ سے کچھی وغیرہ بنالیں۔تم خود ہی بتاؤ کہ کون فائدہ میں رہاہم یا ہمارا دشمن ہم دشمن کا مقابلہ اسی صورت میں کر سکتے ہیں جبکہ ہم اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلائیں۔خالی تھرڈ ڈویژن میں کسی بچے کا پاس ہو جانا کوئی خوشی کی بات نہیں بلکہ اس بات پر خوش ہونا بھی بہت شرم کی بات ہے۔تعلیم کی کمی کی ذمہ داری صرف والدین اور جماعت پر ہی نہیں بلکہ سکول والوں پر بھی ہے۔کیونکہ لڑکے دن کا اکثر حصہ سکول میں گزارتے ہیں۔سکول والے کیوں ان کی نگرانی نہیں کرتے اور کیوں ان کو محنت سے کام کرنے کی تاکید نہیں کرتے ؟ والدین تو ان اوقات میں اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کر سکتے۔پس میرے نزدیک بہت حد تک اس معاملہ میں سکول پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس نے کیوں نگرانی نہیں کی؟ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ننانوے فیصدی ذمہ داری اس کی اساتذہ پر ہے۔کیا وجہ ہے کہ ہمارے سکول کے طالب علم لکھے ہوتے ہیں لیکن آریہ سکولوں کے طالب علم ہوشیار ہوتے ہیں؟ کیا احمدی گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے نعوذ باللہ ان پر نحوست چھا جاتی ہے؟ کیا احمدی گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے ان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے؟ میں اس بات کو کبھی مان نہیں سکتا کہ بچوں کے دماغ اچھے نہیں۔بلکہ میں کہتا ہوں تمہارے دس سال کی پڑھائی نے اس کا دماغ خراب کر دیا ہے۔جب وہ لڑکا قادیان میں رہتا ہے، اس کے والدین بھی قادیان میں رہتے ہیں تو جب وہ لڑکا سکول سے غیر حاضر ہوتا ہے، استاد کیوں سورہتے ہیں؟ کیوں اس کے والدین کو نہیں کہتے کہ تمہارے لڑکے میں فلاں خرابی ہے، اس کو دور کرو؟ کیوں استادوں پر افیون کھانے والے کی سی حالت طاری رہتی ہے؟ اور کیوں نہیں وہ پانچویں چھٹے دن بولتے کہ ان لڑکوں میں یہ خرابی ہے؟ اور کیوں مقامی لڑکوں کے والدین کے سامنے اس بات کا ذکر نہیں کرتے ؟ اور جولڑ کے بورڈر ہیں، ان کے تو وہ خود ذمہ دار ہیں۔ان کے والدین نے انہیں ان کے سپرد کیا ہے۔وہ ان کی تعلیم اور ان کے اخلاق کے ذمہ دار ہیں۔پس بورڈروں کے لئے ان کے پاس کیا بہانہ ہے؟ کیونکہ وہ تو چوبیس گھنٹے انہیں کے پاس رہتے ہیں۔ایسے بہانے کرنے سے تو بہتر ہے کہ زمین پھٹ جائے اور یہ بہانے کرنے والے اس میں سما جائیں۔اگر بے حیائی سے کام لیا جائے تو اور بات ہے۔لیکن اگر یہ استادلڑکوں کی نگرانی کرنا چاہتے ، کیا وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے ؟ اور جولڑ کے باوجود ان کے سمجھانے کے اپنی اصلاح نہ کرتے ، وہ ان کے والدین سے کہتے۔اگر وہ بھی اصلاح کیلئے کوشش نہ کرتے تو مقامی انجمن سے کہتے ، بار بار جلسے کرتے اور ان کے والدین کو توجہ دلاتے۔ہٹلر نے دس سال میں اپنی وام کے خیالات بدل ڈالے اور ان میں ایک ایسی روح بھر دی کہ وہ اس کے لئے جان پر کھیلنے کو تیار ہو 664