تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 54
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم میں باہر گیا ہوا تھا جب واپس آیا اور مجھے پتہ لگا کہ آپ چلے گئے ہیں تو میں اسی وقت سوار ہو کر چل پڑا اور منزلیں مارتا ہوا یہاں پہنچ گیا۔اس زمانے میں اکیلے سفر کرنا نہایت خطرناک ہوا کرتا تھا مگر انہوں نے اس بات کی کوئی پروا نہ کی اور اس عشق کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات سے تھا منزلیں طے کرتے ہوئے لشکر سے آملے۔اسی طرح مدینہ میں کچھ اور لوگ بھی تھے جو اس خیال میں رہے کہ آج نہیں تو کل چل پڑیں گے اور کل خیال کر لیا کہ پرسوں روانہ ہو جائیں گے آخر جب تین دن گزر گئے تو انہوں نے خیال کیا کہ اب اتنا لمبا سفر ہم سے کہاں طے ہو سکتا ہے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس جہاد میں شامل ہونے سے محروم ہو گئے۔تو وقت کو ضائع کرنا بہت بڑی حماقت ہوتی ہے۔ہمارے سامنے بھی اس وقت تحریک جدید کا ایک جہاد ہے جس کا سفر دس منزلوں پر مشتمل ہے۔ان دس منزلوں میں سے چھ منزلیں طے ہو چکی ہیں اور رف چار منزلیں باقی رہتی ہیں۔جو لوگ اب تک اس میں شامل نہیں ہوئے ، ان کے لئے بے شک چھ منزلیں انھٹی طے کرنا مشکل ہیں۔مگر سات منزلیں اکٹھی طے کرنا ان کے لئے اور بھی مشکل ہوگا اور آٹھ یا نو یا دس منزلیں اکٹھی طے کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہوگا۔بے شک جنہوں نیہ سفر پہلے طے نہیں کیا، ان پر اب ان منزلوں کو یکدم طے کرنا گراں گزرے گا مگر انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس وقت انہوں نے اس بوجھ کو برداشت نہ کیا تو یہ گرانی سال بہ سال بڑھتی چلی جائے گی۔پس میں ان نو جوانوں کو جو اس سال کے دوران میں برسرکار ہوئے ہیں یا ان غربا کو جنہیں خدا تعالیٰ نے اب وسعت دے دی ہے یا ان لڑکوں کو جو پہلے بالکل چھوٹے تھے مگر اب وہ بڑے ہو گئے ہیں اور انہیں اس تحریک کی اہمیت کا علم ہو گیا ہے یا انہیں اپنے ماں باپ کی جائیداد میں سے کوئی حصہ مل گیا ہے یا ان لوگوں کو جو پہلے احمدی نہیں تھے مگر اس عرصہ میں وہ احمدی ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انہیں اس تحریک میں شامل ہونے کی توفیق بھی ہے، توجہ دلاتا ہوں کہ منزل قریب آرہی ہے ،سفر خاتمہ کے قریب پہنچ گیا ہے اور چوٹی پر پہنچ کر اب مجاہدین کا لشکر نیچے اتر رہا ہے، ایسا نہ ہو کہ منزل ختم ہو جائے اور تمہارے لئے حسرت کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔میں اس امر کی طرف بھی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بارہا کہا ہے، ہر مومن اور مخلص کو چاہئے کہ وہ اپنی توفیق کے مطابق ہر سال پہلے سال سے زیادہ چندہ دے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ پہلے سال سے بڑھ کر چندہ دینے کے یہ معنی نہیں کہ انسان پانچ یا دس یا ہیں یا سو روپے زیادہ دے بلکہ زیادتی ہر شخص کی مالی حیثیت پر منحصر ہے۔اگر کوئی شخص اپنے سابقہ 54