تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 53
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم تھے بعد میں جا کر مل جاؤں گا) جب واپس گھر پہنچے تو داخل ہوتے ہی اپنی بیوی سے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چلے گئے ہیں یا ابھی نہیں گئے ؟ بعض دفعہ عورت کا دل مرد کی طرف زیادہ راغب ہوتا ہے اور اس کی محبت و موانست کے جذبات جوش میں ہوتے ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ مرد اس کے پاس بیٹھے اور اس سے باتیں کرے اس نے بھی نہا دھو کر بناؤ سنگھار کیا ہوا تھا اور چاہتی تھی کہ ابوخیثمہ اس سے باتیں کریں۔چنانچہ جب انہوں نے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جہاد کے لئے تشریف لے گئے ہیں یا نہیں؟ تو اس نے عورتوں والی چال چلنی شروع کر دی اور پاس بیٹھ کر محبت کا اظہار کرنے لگ گئی اور کہنے لگی پہلے کچھ باتیں تو کر لو۔انہوں نے کہا کہ باتیں بعد میں دیکھی جائیں گی ، پہلے یہ بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم چلے تو نہیں گئے ؟ وہ پھر باتوں میں مشغول کرنے لگی مگر انہوں نے اصرار کیا کہ پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حال بتاؤ۔آخر اس نے بتایا کہ آپ کل لشکر سمیت چلے گئے ہیں۔ابو خیثمہ نے جب یہ سنا تو کہا کہ ہمارے لئے شرم کا مقام ہے کہ خدا کا رسول تو دھوپ میں سفر کر رہا ہو اور میں اپنی بیوی کے پاس آرام سے بیٹھا باتیں کر رہا ہوں۔یہ کہتے ہی انہوں نے گھوڑے پر زین ڈالی اور چل پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی اپنے ساتھیوں کے اخلاص اور ان کی محبت کا پتہ تھا۔آپ کے دل میں بار بار یہ خیال آتا تھا کہ ابو خشتیمہ نہیں آیا ! وہ بڑا مخلص آدمی ہے، معلوم نہیں اس کے آنے میں کیا روک حائل ہو ہو گئی ہے؟ صحابہ کہتے ہیں کہ آپ تھوڑی دور تک چلتے اور پھر مڑ کر دیکھتے اور کہتے ابو خیثمہ نہیں آیا ! پھر کچھ سفر طے کرتے تو پیچھے کی طرف منہ موڑ کر دیکھتے اور ذرا بھی گرد غبار اڑتی نظر آتی تو فرماتے ابوخیثمہ نہیں آیا؟ اس جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو قیصر جو عیسائی بادشاہ تھا اس کے مقابلہ میں جانا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جلد جلد منزلیں طے کرتے ہوئے جا رہے تھے تا عیسائی لشکر کو تیاری کرنے کا موقع نہ مل جائے۔اور ابو خیثمہ چونکہ چوبیس گھنٹے پیچھے رہ گئے تھے اس لئے ان کا لشکر کے ساتھ جلد آملنا مشکل تھا۔وہ اپنی سواری کو ایڑیاں مارتے ہوئے تیزی کے ساتھ سفر طے کر رہے تھے۔آخر تیسرے دن اسلامی لشکر کو دور سے گر داڑتی دکھائی دی اور انہوں نے کہا کہ گر دار تی نظر آرہی ہے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی سوار آرہا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا حسن آبا خيمة یعنی تو ابو خیمہ ہو جا۔یہ عربی کا ایک محاورہ ہے جس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ کسی انسان کی شکل بدل جائے اور وہ ہو تو کوئی اور مگر اس کی شکل کسی اور انسان کی طرح ہو جائے بلکہ اس محاورہ کے معنی یہ تھے کہ کاش یہ آنے والا ابو خیثمہ ہوا اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ابوخیثمہ دوڑے چلے آتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ابو خیمہ آخرتم آہی ملے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں پیچھے رہ سکتا تھا ؟ 53